بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے قدیم شہر اجین میں 600 سالہ تاریخی شاہی مسجد کا معاملہ محض سڑک کشادگی کا کوئی انتظامی نزاع نہیں، بلکہ یہ بھارت میں گزشتہ ایک دہائی سے جاری منظم ہندوتوا پالیسی کا تسلسل ہے۔ نریندر مودی کے اقتدار میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کی تاریخ، مذہبی تشخص اور جغرافیائی موجودگی کو محدود کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔
سنہ 2028 کے سمہاستھا کمبھ میلے کا سہارا لے کر 1390 سے قائم اس تاریخی وقف مسجد کو مسمار کرنے کی سازش تیار کی گئی۔ شہری ترقی کا لبادہ دراصل اس انتہا پسندانہ نظریے کو چھپانے کے لیے اوڑھا جا رہا ہے جس کا واحد ہدف مسلمانوں کے شاندار تہذیبی آثار کو کچلنا ہے۔
بابری مسجد سے اجین تک
اجین کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے بھارت کی حالیہ تاریخ کے ان زخموں کو دیکھنا ہوگا جہاں ریاستی قوت کو مسلم شناخت مٹانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت، دہائیوں بعد اس مقام پر رام مندر کی تعمیر میں ریاستی مشینری کی براہِ راست شمولیت، اور پھر گیان واپی و متھرا کی عیدگاہ کے تنازعات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔
اجین کی شاہی مسجد پر بلڈوزر بھیجنے کا اقدام کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی مہم ہے جس میں انتظامیہ، بلدیاتی ادارے اور اکثریتی ووٹ بینک کو خوش کرنے والے سیاسی عناصر یکجا ہو کر اسلامی ورثے کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کے درپے ہیں۔ جب ریاستی ادارے خود غیر جانبدار نہ رہیں تو صدیوں پرانی مساجد کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ قرار دے دیا جاتا ہے۔
بلڈوزر کلچر
بھارت میں بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں “بلڈوزر انصاف” ایک باقاعدہ ہتھیار بن کر ابھرا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے مسلسل شواہد کے ساتھ یہ واضح کیا ہے کہ کس طرح مسلم محلوں، دکانوں اور املاک کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
اجین کی شاہی مسجد کے ساتھ بھی یہی طریقہ کار دہرایا جا رہا ہے۔ متبادل نقشے اور سڑک کی دیگر سمتوں میں توسیع کے تکنیکی راستے موجود ہونے کے باوجود انتظامیہ کا پورا زور صدیوں پرانی عبادت گاہ پر بلڈوزر چلانے پر مرکوز ہے۔ یہ حکمتِ عملی مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس گہرا کرنے اور ان کے تاریخی تشخص کو ملبے میں تبدیل کرنے کا ریاستی نمونہ ہے۔
عوامی مزاحمت
پیش آنے والے واقعات نے ثابت کیا کہ بھارتی مسلمان اب اپنے تاریخی ورثے کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ خواتین، بزرگ اور نوجوان دن رات مسجد کے اندر اور باہر خیمہ زن ہو کر خود انسانی ڈھال بن گئے۔ ان کا دو ٹوک پیغام تھا کہ مسجد کی دیوار پر ضرب لگانے سے پہلے ریاستی بلڈوزرز کو ان کے جسموں کے اوپر سے گزرنا ہوگا۔
پولیس کی بھاری نفری، ریپڈ ایکشن فورس کی تعیناتی اور نہتے نمازیوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اس ریاستی تشدد کی عکاس ہے جو اپنے ہی شہریوں پر مسلط کیا جا رہا ہے۔ یہ مزاحمت محض ایک عمارت کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ بھارت میں زندہ رہنے کے آئینی حق اور اپنے دینی شعائر کے تحفظ کی بقائی جنگ ہے۔
سیکولرازم کا جنازہ
اجین کا المیہ بھارت کے سیکولر تشخص پر ایک کاری ضرب ہے۔ یہ سوال عالمی برادری اور انسانی حقوق کے دعویداروں کے ضمیر پر دستک دے رہا ہے کہ کیا اکیسویں صدی میں ایک اقلیت کو اپنی 600 سالہ عبادت گاہ بچانے کے لیے اپنے لہو کا نذرانہ پیش کرنا پڑے گا؟ اگر شاہی مسجد پر بلڈوزر چلا دیا گیا تو یہ شہر کی ان دیگر 28 مساجد کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہوگی جنہیں اسی نوعیت کے منصوبوں میں نشانہ بنانے کا خدشہ ہے۔
ہندوتوا کے اس فاشسٹ غلبے کے سامنے عالمی اداروں کی خاموشی نہ صرف شرمناک ہے بلکہ اس انتہا پسندی کی بالواسطہ حوصلہ افزائی کے مترادف ہے۔ بھارتی مسلمانوں کا یہ اعلان کہ “ہم مسجد کو تنہا نہیں چھوڑیں گے” دراصل دنیا کے سب سے بڑے نام نہاد جمہوری ملک میں ریاستی جبر کے خلاف ایک غیر متزلزل صدائے احتجاج ہے۔