وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انکشاف کیا ہے کہ اس وقت افغانستان میں 25 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں، اور ان انتہا پسند گروپوں کا خاتمہ عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں روس اور چین کے وزرائے داخلہ سے الگ الگ ملاقاتوں کے دوران انہوں نے خطے کی مجموعی صورتحال، باہمی سکیورٹی تعاون اور سرحد پار سے ابھرتے ہوئے خطرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
روسی ہم منصب کے ساتھ گفتگو میں افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
چینی ہم منصب سےدورانِ ملاقات وزیر داخلہ محسن نقوی نے بارڈر مینجمنٹ، غیر قانونی امیگریشن کے سدِباب اور انسدادِ منشیات کے حوالے سے معاونت کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال کیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردوں کی مالیاتی فنڈنگ کو ہر سطح پر روکنا ناگزیر ہے اور پاکستان چین کے ساتھ اپنے سکیورٹی تعاون کو مزید آگے بڑھانے کا خواہاں ہے اور پاکستان میں مقیم چینی شہریوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے فورس قائم کی جا چکی ہے۔
دیکھیے: شام سے دہشت گردوں کی افغانستان منتقلی؛ بین الاقوامی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ قرار