گزشتہ چند برسوں میں افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون میں پیشرفت ہوئی ہے اور اب دونوں اطراف ایک “تعاون اور مواقع” پر مبنی بیانیہ تشکیل پا رہا ہے۔
حکام کے مطابق 2 اور 3 اپریل کی درمیانی شب غلام خان سیکٹر میں سرحدی چوکی پر حملے کی کوشش کو بھی ناکام بنا دیا گیا، جس میں 37 تک دہشتگرد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے۔
وہ ایک پوش علاقے میں رہتی ہیں لیکن اس کے باوجود گیس اور پانی جیسی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ ان کے مطابق بارش کے بعد سے گیس دستیاب نہیں جبکہ پانی ٹینکر کے ذریعے حاصل کرنا پڑتا ہے۔
یہ مہم تقریباً 300 کلومیٹر طویل تھی، جو شدید سردی اور برفانی طوفانی حالات میں ڈاگ سلیج کے ذریعے مکمل کی گئی۔ چیلنج کا آغاز سویڈن سے ہوا اور اختتام ناروے میں ہوا۔
سیکیورٹی اداروں نے ایک کارروائی کے دوران ایک مبینہ دہشتگرد کو گرفتار کیا ہے جس کا تعلق تحریک طالبان افغانستان سے ہے اور وہ بلوچستان میں ’لالو‘ کے نام سے سرگرم تھا۔
پاکستان کی افغانستان کے ساتھ پالیسی تضاد کا شکار ہے۔ ان کے مطابق پاکستان مسلسل مذاکرات، بارڈر مینجمنٹ اور دہشتگردی کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات پر زور دیتا رہا ہے۔
افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد توقع کی جا رہی تھی کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور سرحد پار دہشتگردی میں کمی آئے گی، مگر صورتحال اس کے برعکس نکلی۔
افغان ترجمان کی جانب سے پیش کیا گیا سویلین ہلاکتوں کا بیانیہ دراصل ان کارروائیوں کو متنازع بنانے اور عالمی ہمدردی حاصل کرنے کی ایک کوشش ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں