عمان نے ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان ہونے والا مشاورتی اجلاس ملتوی کر دیا ہے۔ یہ اہم اجلاس 14 ستمبر کو صلالہ میں ہونا تھا۔ میزبان ملک نے فی الحال نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا۔
اس اجلاس کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت تھا۔ شرکا نے جہاز رانی کے لیے ایک عبوری طریقہ کار طے کرنا تھا۔
علاقائی سطح پر مکمل اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث رکاوٹیں سامنے آئیں۔ بحرین نے اجلاس میں شرکت سے صاف انکار کر دیا تھا۔ دوسری جانب عراق نے اپنی شرکت کی باقاعدہ تصدیق کی تھی۔
خطے میں کشیدگی اور بحری راستے
یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران سامنے آئی ہے۔ حالیہ دنوں میں تجارتی بحری جہازوں پر متعدد حملے ہوئے ہیں۔ علاوہ ازیں سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان واقعات کے باعث خلیجی ممالک میں باہمی بداعتمادی بڑھی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب سے محفوظ ترسیل خلیجی معیشت کے لیے انتہائی ناگزیر سمجھی جاتی ہے۔
عمان کی سفارتی کوششیں
ماہرین کے مطابق اجلاس کا التوا سفارتی کوششوں کا خاتمہ نہیں ہے۔ عمان فریقین کے درمیان شٹل ڈپلومیسی بدستور جاری رکھے گا۔ مسقط انتظامیہ ماحول کو مذاکرات کے لیے سازگار بنانے کی خواہاں ہے۔
پاکستان کے لیے بھی آبنائے ہرمز کے تجارتی راستوں کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ اسلام آباد خطے میں کشیدگی میں کمی اور توانائی کی مسلسل فراہمی کا حامی ہے۔ عمان کی یہ سفارتی کوششیں خطے کے امن میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔