پاکستان کا روزِ اول سے یہ واضح اور اصولی مؤقف رہا ہے کہ ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کے تانے بانے سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں اور غیر ملکی سہولت کاری سے جڑتے ہیں۔ اسلام آباد نے ہر بین الاقوامی اور دوطرفہ فورم پر مسلسل یہ مؤقف دہرایا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ 5 اکتوبر کو ضلع کرم میں فتنۃ الخوارج کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ہلاک ہونے والے دو دہشتگردوں کی افغان شناخت نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے اس دیرینہ مؤقف کو حقائق کی روشنی میں سچ ثابت کر دیا ہے۔
کرم آپریشن میں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں صفت اللہ عرف سیف اللہ جمشید اور عمر فدائی کے کوائف اور افغان شہریت کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ڈھائی سو سے زائد افغان شہریوں کا باقاعدہ دستاویزی ریکارڈ پہلے سے موجود ہے۔ حالیہ واقعہ اس طویل اور تلخ فہرست میں ایک اور ناقابلِ تردید ثبوت کا اضافہ ہے۔ یہ حقائق واضح کرتے ہیں کہ پاکستان پر ہونے والے حملے محض اندرونی انتشار کا نتیجہ نہیں بلکہ سرحد پار سے منظم کی جانے والی منظم جارحیت ہیں۔

معاملہ صرف میدانِ جنگ میں ہلاکت یا شناخت تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے بعد کے واقعات مسئلے کی سنگینی کو مزید اجاگر کرتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے دہشتگرد کے آبائی علاقے یعنی افغانستان کے صوبہ پکتیا میں باقاعدہ تعزیتی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں فتنۃ الخوارج کے بینرز اور پرچم کھلے عام لہرائے گئے۔
سرحد کے اُس پار ایسی سرگرمیوں کی کھلی اجازت اور پذیرائی درحقیقت اس حقیقت کا کھلا ثبوت ہے کہ شرپسند عناصر وہاں مکمل آزادی اور کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ایک ریاست کی سرحد کے اندر دہشتگرد تنظیموں کی علانیہ تائید و توثیق بین الاقوامی ذمہ داریوں اور اچھے ہمسائیگی کے بنیادی اصولوں سے صریح انحراف ہے۔
پاکستان نے ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم اور خود مختار افغانستان کی حمایت کی ہے اور افغان عوام کے ساتھ دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات نبھائے ہیں۔ تاہم امن کی خواہش یکطرفہ کوششوں سے پوری نہیں ہو سکتی۔ افغان عبوری انتظامیہ کو دوحہ معاہدے اور عالمی برادری سے کیے گئے ان وعدوں کا پاس رکھنا ہوگا جن میں اس عزم کا اعادہ کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ سرحد پار تعزیتی اجتماعات اور دہشتگردوں کی لاشوں کی پذیرائی وہ مناظر ہیں جن پر خاموشی اختیار کرنا ناممکن ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ افغان حکومت محض رسمی بیانات اور تردیدوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے۔ پاکستان کے پاس موجود شواہد اب محض الزامات نہیں بلکہ زمینی حقائق کی صورت میں عیاں ہیں۔
اگر سرحد پار موجود محفوظ ٹھکانوں اور سہولت کاری کا مستقل سدباب نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کا امن داؤ پر لگ جائے گا۔ اسلام آباد کے صبر اور سنجیدگی کو کمزوری سمجھنے کے بجائے کابل کو اپنی سرزمین سے پیدا ہونے والے خطرات کا فوری اور فیصلہ کن خاتمہ کرنا ہوگا۔
دیکھیے: پکتیکا فضائی حملے: حافظ گل بہادر گروپ نشانہ بنا، مقامی شہری کا دعویٰ