فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہندو مندر کا تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ چنانچہ بی اے پی ایس مندر کے افتتاح کے بعد نیا تنازع کھڑا ہو گیا۔ اس دوران ایفل ٹاور پر تعینات خواتین ملازمین کو مبینہ طور پر روکا گیا۔
اس پر ایفل ٹاور کے عملے نے فوری طور پر شدید احتجاج کیا۔ پیرس حکام نے اب پورے معاملے کی باقاعدہ تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔ تاہم بی اے پی ایس نے خواتین کو دانستہ روکنے کی سختی سے تردید کی ہے۔
بھارتی حکام کی شرکت
اس کے علاوہ اس تقریب میں بھارتی حکام کی شرکت پر بھی سوالات اٹھ گئے ہیں۔ دراصل بھارتی سفیر جاوید اشرف نے اس مندر کے سنگِ بنیاد میں شرکت کی تھی۔ پھر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے مندر کے افتتاح سے ورچوئل خطاب بھی کیا۔
لیکن بھارتی وزارت خارجہ نے ایفل ٹاور تنازع سے خود کو مکمل الگ رکھا ہے۔ یاد رہے کہ اب ماہرین مندر کی زمین اور فنڈنگ پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ اس وجہ سے پیرس میں مندر کی تعمیراتی لاگت کے ذرائع پوچھے جا رہے ہیں۔
دیکھیے: امریکہ میں آر ایس ایس مخالف احتجاج: بی جے پی کا اقلیت مخالف ایجنڈا بے نقاب