آج مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل صرف واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ اسلام آباد، انقرہ اور تہران جیسے دارالحکومتوں میں بھی طے ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور بیشتر خلیجی ممالک کا (سوائے یو اے ای) امریکی اڈوں سے فاصلہ رکھنا ایک بڑی سفارتی تبدیلی ہے۔ اگر مسلم دنیا اسرائیل کے اس غیر مرئی محاصرے کو بروقت نہ سمجھ سکی تو خطے کا امن طویل عرصے کے لیے خاکستر ہو سکتا ہے۔

January 21, 2026

افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ان شہریوں کے خلاف کی گئی جنہیں جرمن حکام نے ری لوکیشن پروگرام کے تحت قبول کر لیا تھا۔ طالبان اہلکاروں نے گیسٹ ہاؤس کو گھیرے میں لے کر رہائشیوں کی سخت تفتیش کی

January 21, 2026

تاریخ بتاتی ہے کہ خطے ایک دن میں نہیں ٹوٹتے وہ تب بکھرتے ہیں جب خاموش مفاہمتیں اجتماعی ریڈ لائنز کی جگہ لے لیں۔ جب اونٹ آخرکار کسی ایک سمت کا انتخاب کرتا ہے تو زمین ہمیشہ کے لیے سرک جاتی ہے۔ اور یہی سرکاؤ خلیج سے جنوبی ایشیا تک طاقت کی سیاست کے اگلے مرحلے کا تعین کرے گا۔

January 21, 2026

ڈیجیٹل عہد میں آزادیٔ اظہار کو اکثر ایک مطلق حق تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم جب یہی بنیادی حق گمراہ کُن معلومات، منظم اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کی کردار کشی کے لیے استعمال ہونے لگے، تو یہ جمہوری استحقاق کی بجائے عوامی امن اور قومی سالمیت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے

January 21, 2026

کابل میں حالیہ دھماکے کے بعد چین نے طالبان حکومت سے فوری اور ٹھوس اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ افغانستان میں موجود چینی شہریوں، اداروں اور سرمایہ کاری کے تحفظ کو طالبان حکومت کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے

January 20, 2026

پاکستان اور یورپی یونین مضبوط سفارتی اور اقتصادی تعلقات کے 60 سال سے زائد عرصے کا جشن مناتے ہوئے پہلا اعلیٰ سطحی یورپی یونین۔ پاکستان بزنس فورم 28 اور 29 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد کریں گے

January 20, 2026

سیکیورٹی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا مہم زوروں پر – ریاستی پالیسیوں کو خطرات لاحق

مذکورہ بحث تب شدت اختیار کر گئی جب 28 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 15 روز کے اندر فوجی اہلکاروں کے قبائلی اضلاع سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا
مذکورہ بحث تب شدت اختیار کر گئی جب 28 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 15 روز کے اندر فوجی اہلکاروں کے قبائلی اضلاع سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا

ماہرین کے مطابق پروپیگنڈا مہم عین اس وقت چلائی جارہی ہے جب خطے میں دہشتگرد عناصر کی کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے، دراصل ایسے اقدامات ریاستی اداروں کو محدود اور بدنام کرنے کی ایک منظم سازش ہے

August 12, 2025

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے حوالے سے حالیہ بیاات اور اقدامات پر سکیورٹی ذرائع تشویش میں مبتلا ہیں، جو ممکنہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اثر انداز سکتے ہیں، جو تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گردوں گروہوں کو تقویت دے سکتے ہیں۔

مذکورہ بحث تب شدت اختیار کر گئی جب 28 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 15 روز کے اندر فوجی اہلکاروں کے قبائلی اضلاع سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے پی ٹی آئی کے صوبائی قائدین اور کارکنان کی جانب سے سوشل میڈیا پر باجوڑ اور دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن کے خلاف بیانات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈا مہم

ماہرین کے مطابق پروپیگنڈا مہم عین اس وقت چلائی جارہی ہے جب خطے میں دہشتگرد عناصر کی کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے، دراصل ایسے اقدامات ریاستی اداروں کو محدود اور بدنام کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی ایسی سرگرمیاں کی جارہی ہیں جن کے ذریعے ریاست اداروں کو بدنام کیا جاسکے۔ حالیہ دنوں میں باجوڑ آپریشن کو بنیاد بناکر ایسی تصاویر شیئر کی گئیں ہیںجو یا تو پرانی تھیں یا پھر پاکستان کے کسی بھی علاقے کی نہیں تھی۔ جیسے باجوڑ میں ایک مذہبی شخصیت کی ہلاکت پر ہونے والے پرانے مظاہروں کو فوج مخالف احتجاج کے طور پر پیش کیا گیا۔

پی ٹی آئی حکومت کے متضاد بیانات

دیکھا جائے تو کے پی کے کی صوبائی قیادت دو ٹوک مؤقف اختیار نہیں کرسکی۔ علی امین گنڈاپور نے شروع میں باجوڑ آپریشن اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان جاری کیا لیکن بعد میں پھر آپریشن کی حمایت کردی۔
پی ٹی آئی کے قائدین و کارکنان کی جانب سے ریاستی اداروں کے متعلق عدم اعتماد پھیلا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی سرپرستی میں منعقد کیے گئے جرگوں میں واضح انداز میں آپریشن کے دوران نقل مکانی کو سختی سے مسترد کیا تھا اور ساتھ ہی افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ ایک ایسا مطالبہ جس کے بارے ماہرین کاکہنا ہے ایسے مطالبات جنکے ذریعے دہشت گردوں کو سرحدی علاقوں میں پناہ دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی ایم اور بھارتی اکاؤنٹس کی منفی سرگرمیاں

آجکل پی ٹی آئی کی ان پالیسیوں کے ساتھ ساتھ پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں نے بھی پاکستانی فوج پر تنقید کے نشتر چلا رکھے ہیں۔۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم سے منسلک اکاؤنٹس اور دیگر کارکنوں کے بیانات موجودہ آپریشنز کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بجائے قومیت و لسانیت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان کی سلامتی کے لیے درپیش چیلنجز

پاکستان تحریک طالبان جو افغانستان میں طالبان حکومت کے ہوتے ہوٗے ایک مضبوط قوت کی شکل اختیار کرچکی ہے، نے گذشتہ دو سالوں میں خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں اپنی کارواٗیوں میں اضافہ کردیا ہے، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور سیکیورٹی فورسز پر بھی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی حکومت نے ابھی تک کوئی سرکاری اور عوامی ردعمل جاری نہیں کیا، لیکن حکام خبردار کرتے ہیں کہ انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے سلامتی کی پالیسی کو سیاسی رنگ دینے سے باغیوں کو موقع مل سکتا ہے کہ وہ اپنے محفوظ پناہ گاہوں کو دوبارہ قائم کریں اور صوبے کو اس عدم استحکام کی طرف دھکیل دیں جو 2000 کی دہائی کے وسط میں بغاوت کے دور میں دیکھا گیا تھا۔

جیسے جیسے دشمن عناصر کی کاروایوں میں اضافہ ہو رہا ہےتو اشتعال انگیزی، بے بنیاد معلومات اور پروپیگنڈے جو ملک کو غیر مستحکم ہونے کی طرف لے جارہے ہیں۔ انپی عوامل کے ذریعے خیبر پختونخوا کو ماضی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ سیکیورٹٰ ماہرین کے مطابق باوجود شدید خطرات ہونے کے پاکستان کا ماضی روز اول سے دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہوٗے مضبوط ہوا ہے، ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ سیاسی و ذاتی مفاد قومی جدوجہد کو کمزور نہ کردے، سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی اس طرح ہو کہ ریاست مخالف لوگوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ہی نہ ملے۔

دیکھیں: باجوڑ میں ایک بار پھر تین روزہ کرفیو نافذ؛ نوٹیفیکیشن جاری

متعلقہ مضامین

آج مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل صرف واشنگٹن یا تل ابیب میں نہیں بلکہ اسلام آباد، انقرہ اور تہران جیسے دارالحکومتوں میں بھی طے ہو رہا ہے۔ سعودی عرب اور بیشتر خلیجی ممالک کا (سوائے یو اے ای) امریکی اڈوں سے فاصلہ رکھنا ایک بڑی سفارتی تبدیلی ہے۔ اگر مسلم دنیا اسرائیل کے اس غیر مرئی محاصرے کو بروقت نہ سمجھ سکی تو خطے کا امن طویل عرصے کے لیے خاکستر ہو سکتا ہے۔

January 21, 2026

افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ان شہریوں کے خلاف کی گئی جنہیں جرمن حکام نے ری لوکیشن پروگرام کے تحت قبول کر لیا تھا۔ طالبان اہلکاروں نے گیسٹ ہاؤس کو گھیرے میں لے کر رہائشیوں کی سخت تفتیش کی

January 21, 2026

تاریخ بتاتی ہے کہ خطے ایک دن میں نہیں ٹوٹتے وہ تب بکھرتے ہیں جب خاموش مفاہمتیں اجتماعی ریڈ لائنز کی جگہ لے لیں۔ جب اونٹ آخرکار کسی ایک سمت کا انتخاب کرتا ہے تو زمین ہمیشہ کے لیے سرک جاتی ہے۔ اور یہی سرکاؤ خلیج سے جنوبی ایشیا تک طاقت کی سیاست کے اگلے مرحلے کا تعین کرے گا۔

January 21, 2026

ڈیجیٹل عہد میں آزادیٔ اظہار کو اکثر ایک مطلق حق تصور کیا جاتا ہے۔ تاہم جب یہی بنیادی حق گمراہ کُن معلومات، منظم اشتعال انگیزی اور ریاستی اداروں کی کردار کشی کے لیے استعمال ہونے لگے، تو یہ جمہوری استحقاق کی بجائے عوامی امن اور قومی سالمیت کے لیے خطرہ بن جاتا ہے

January 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *