حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے پولیس نے پرانے مقدمات میں جاری وارنٹس پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 10, 2026

حوثیوں کے ساحلی شہر موخا پر قبضے سے باب المندب خطرے میں پڑ گیا ہے، جبکہ سعودی اتحادی فورسز نے شدید فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

September 10, 2026

سہارنپور میں فجر سے پہلے مسجد گرا دی گئی، ملبے سے 1909 کی اینٹ اور صدی پرانا کنواں نکلا۔ بابری سے نوح تک، مودی حکومت اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کا مکمل تجزیہ۔

September 10, 2026

افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ پر عالمی رپورٹس نے مہر لگا دی ہے۔ اس لیے خطے کے امن اور اقتصادی منصوبوں کو درپیش خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

September 10, 2026

گلزادی بلوچ کیس میں قانونی کارروائی کے خلاف سوشل میڈیا پر منظم مہم سامنے آئی ہے۔ اس لیے غیر مصدقہ دعوؤں کے ذریعے عدالتی نظام پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔

September 10, 2026

پاک یو اے ای اسٹریٹجک شراکت داری نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ اس لیے دونوں برادر ممالک نے دفاع، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور دیا ہے۔

September 10, 2026

سیکیورٹی اداروں کے خلاف پروپیگنڈا مہم زوروں پر – ریاستی پالیسیوں کو خطرات لاحق

مذکورہ بحث تب شدت اختیار کر گئی جب 28 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 15 روز کے اندر فوجی اہلکاروں کے قبائلی اضلاع سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا
مذکورہ بحث تب شدت اختیار کر گئی جب 28 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 15 روز کے اندر فوجی اہلکاروں کے قبائلی اضلاع سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا

ماہرین کے مطابق پروپیگنڈا مہم عین اس وقت چلائی جارہی ہے جب خطے میں دہشتگرد عناصر کی کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے، دراصل ایسے اقدامات ریاستی اداروں کو محدود اور بدنام کرنے کی ایک منظم سازش ہے

August 12, 2025

خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے حوالے سے حالیہ بیاات اور اقدامات پر سکیورٹی ذرائع تشویش میں مبتلا ہیں، جو ممکنہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں میں اثر انداز سکتے ہیں، جو تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گردوں گروہوں کو تقویت دے سکتے ہیں۔

مذکورہ بحث تب شدت اختیار کر گئی جب 28 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 15 روز کے اندر فوجی اہلکاروں کے قبائلی اضلاع سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ گذشتہ کئی ہفتوں سے پی ٹی آئی کے صوبائی قائدین اور کارکنان کی جانب سے سوشل میڈیا پر باجوڑ اور دیگر علاقوں میں فوجی آپریشن کے خلاف بیانات میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری پروپیگنڈا مہم

ماہرین کے مطابق پروپیگنڈا مہم عین اس وقت چلائی جارہی ہے جب خطے میں دہشتگرد عناصر کی کارروائیوں میں اضافہ ہورہا ہے، دراصل ایسے اقدامات ریاستی اداروں کو محدود اور بدنام کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر بھی ایسی سرگرمیاں کی جارہی ہیں جن کے ذریعے ریاست اداروں کو بدنام کیا جاسکے۔ حالیہ دنوں میں باجوڑ آپریشن کو بنیاد بناکر ایسی تصاویر شیئر کی گئیں ہیںجو یا تو پرانی تھیں یا پھر پاکستان کے کسی بھی علاقے کی نہیں تھی۔ جیسے باجوڑ میں ایک مذہبی شخصیت کی ہلاکت پر ہونے والے پرانے مظاہروں کو فوج مخالف احتجاج کے طور پر پیش کیا گیا۔

پی ٹی آئی حکومت کے متضاد بیانات

دیکھا جائے تو کے پی کے کی صوبائی قیادت دو ٹوک مؤقف اختیار نہیں کرسکی۔ علی امین گنڈاپور نے شروع میں باجوڑ آپریشن اور ریاستی اداروں کے خلاف بیان جاری کیا لیکن بعد میں پھر آپریشن کی حمایت کردی۔
پی ٹی آئی کے قائدین و کارکنان کی جانب سے ریاستی اداروں کے متعلق عدم اعتماد پھیلا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی سرپرستی میں منعقد کیے گئے جرگوں میں واضح انداز میں آپریشن کے دوران نقل مکانی کو سختی سے مسترد کیا تھا اور ساتھ ہی افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ ایک ایسا مطالبہ جس کے بارے ماہرین کاکہنا ہے ایسے مطالبات جنکے ذریعے دہشت گردوں کو سرحدی علاقوں میں پناہ دینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

پی ٹی ایم اور بھارتی اکاؤنٹس کی منفی سرگرمیاں

آجکل پی ٹی آئی کی ان پالیسیوں کے ساتھ ساتھ پشتون تحفظ موومنٹ کے کارکنوں نے بھی پاکستانی فوج پر تنقید کے نشتر چلا رکھے ہیں۔۔ سوشل میڈیا پر پی ٹی ایم سے منسلک اکاؤنٹس اور دیگر کارکنوں کے بیانات موجودہ آپریشنز کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے بجائے قومیت و لسانیت کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

پاکستان کی سلامتی کے لیے درپیش چیلنجز

پاکستان تحریک طالبان جو افغانستان میں طالبان حکومت کے ہوتے ہوٗے ایک مضبوط قوت کی شکل اختیار کرچکی ہے، نے گذشتہ دو سالوں میں خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقوں میں اپنی کارواٗیوں میں اضافہ کردیا ہے، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور سیکیورٹی فورسز پر بھی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی حکومت نے ابھی تک کوئی سرکاری اور عوامی ردعمل جاری نہیں کیا، لیکن حکام خبردار کرتے ہیں کہ انتخابی فائدہ حاصل کرنے کے لیے سلامتی کی پالیسی کو سیاسی رنگ دینے سے باغیوں کو موقع مل سکتا ہے کہ وہ اپنے محفوظ پناہ گاہوں کو دوبارہ قائم کریں اور صوبے کو اس عدم استحکام کی طرف دھکیل دیں جو 2000 کی دہائی کے وسط میں بغاوت کے دور میں دیکھا گیا تھا۔

جیسے جیسے دشمن عناصر کی کاروایوں میں اضافہ ہو رہا ہےتو اشتعال انگیزی، بے بنیاد معلومات اور پروپیگنڈے جو ملک کو غیر مستحکم ہونے کی طرف لے جارہے ہیں۔ انپی عوامل کے ذریعے خیبر پختونخوا کو ماضی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ سیکیورٹٰ ماہرین کے مطابق باوجود شدید خطرات ہونے کے پاکستان کا ماضی روز اول سے دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد کرتے ہوٗے مضبوط ہوا ہے، ان کے مطابق اصل چیلنج یہ ہے کہ سیاسی و ذاتی مفاد قومی جدوجہد کو کمزور نہ کردے، سرکاری اداروں اور عوام کے درمیان ہم آہنگی اس طرح ہو کہ ریاست مخالف لوگوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع ہی نہ ملے۔

دیکھیں: باجوڑ میں ایک بار پھر تین روزہ کرفیو نافذ؛ نوٹیفیکیشن جاری

متعلقہ مضامین

حماد اظہر کی گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنماؤں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے پولیس نے پرانے مقدمات میں جاری وارنٹس پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

September 10, 2026

حوثیوں کے ساحلی شہر موخا پر قبضے سے باب المندب خطرے میں پڑ گیا ہے، جبکہ سعودی اتحادی فورسز نے شدید فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔

September 10, 2026

سہارنپور میں فجر سے پہلے مسجد گرا دی گئی، ملبے سے 1909 کی اینٹ اور صدی پرانا کنواں نکلا۔ بابری سے نوح تک، مودی حکومت اور آر ایس ایس کے ایجنڈے کا مکمل تجزیہ۔

September 10, 2026

افغانستان میں القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے گٹھ جوڑ پر عالمی رپورٹس نے مہر لگا دی ہے۔ اس لیے خطے کے امن اور اقتصادی منصوبوں کو درپیش خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔

September 10, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *