ماسکو فارمیٹ کے حالیہ اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے خطاب نے خطے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ خطاب میں اٹھائے گئے نکات سے زیادہ ان اہم معاملات کی عدم موجودگی پر توجہ دی جا رہی ہے جنہیں دانستہ طور پر نظر انداز کیا گیا۔
روسی قیادت بظاہر داعش خراسان کے خلاف افغان طالبان کی کارروائیوں سے مطمئن نظر آتی ہے۔ اس اطمینان کے پس پردہ کابل کی جانب سے دیگر دہشت گرد گروہوں کو ملنے والی مبینہ سہولت کاری کو مکمل طور پر پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔
روسی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں افغان اقلیتوں کی نمائندگی، خواتین کی تعلیم اور کام پر عائد پابندیوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ اس کے علاوہ افغانستان میں جاری مذہبی انتہاپسندانہ نظریات کے پھیلاؤ پر بھی کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا۔
ماسکو کا یہ رویہ اس لحاظ سے حیران کن ہے کہ ماضی میں روس خود افغان سرزمین سے پنپنے والے شدت پسند نیٹ ورکس کے خطرات پر مسلسل آواز اٹھاتا رہا ہے۔ اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ روس جامع سکیورٹی کے بجائے اپنے جغرافیائی دائرۂ اثر کو ترجیح دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق جب تک کابل ماسکو کے اثر میں رہتا ہے، دہشت گردی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔ تاہم افغان عبوری حکومت کے مغربی ممالک کی جانب جھکاؤ کی صورت میں یہ بیانیہ فوراً تبدیل ہو سکتا ہے۔
ماسکو کی اس مصلحت پسندی کے نتیجے میں خطے کے پڑوسی ممالک کو بھاری جانی و مالی قیمت چکانا پڑ رہی ہے۔ پاکستان خاص طور پر سرحد پار سے ہونے والی شدت پسندی کی اس نئی لہر کا سب سے بڑا شکار بن رہا ہے۔
رواں سال 2026 میں اب تک افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں میں 1,327 پاکستانی شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ ان واقعات میں 2,484 افراد زخمی ہوئے، جبکہ سکیورٹی فورسز نے کارروائیوں کے دوران 1,865 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں کارروائیوں کے دوران مارے گئے شدت پسندوں میں 260 افغان شہریوں کی باقاعدہ شناخت ہوئی ہے۔ سرحد پار سے پاکستان میں دراندازی کرنے والے عناصر میں تقریباً 70 فیصد کا تعلق افغانستان سے پایا گیا ہے۔
پڑوسی ممالک کے نزدیک افغانستان سے ابھرنے والے خطرات محض سفارتی بحث نہیں بلکہ براہِ راست ملکی سلامتی کا مسئلہ ہیں۔ دیگر شدت پسند گروہوں کو حاصل محفوظ ماحول کے ہوتے ہوئے علاقائی سکیورٹی کا دائرہ محض ایک مخصوص تنظیم تک محدود رکھنا ممکن نہیں۔
علاقائی ماہرین کا ماننا ہے کہ دہشت گردی جیسے بنیادی مسئلے سے چشم پوشی کر کے ماسکو فارمیٹ کے اصل مقاصد کو کمزور کیا جا رہا ہے۔ اگر مشترکہ پلیٹ فارم پر ٹھوس خطرات پر بات نہ ہو تو ایسے فورمز کی عملی افادیت باقی نہیں رہتی۔