اکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک بار پھر اپنا دوٹوک مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن و استحکام کا انحصار جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازع کے منصفانہ حل پر ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی میں سلامتی کونسل کی سالانہ رپورٹ 2025 پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر اور فلسطین جیسے دیرینہ تنازعات کو بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جانا ناگزیر ہے۔
پاکستانی مندوب نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ سال 2025 کے دوران بھارت اور پاکستان سے متعلق بیس سے زائد مراسلات سلامتی کونسل کے سامنے لائے گئے، جبکہ مئی 2025 میں اس ایجنڈے پر بند کمرہ مشاورت بھی ہوئی۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ اقدامات اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ سات دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود جموں و کشمیر کا تنازع آج بھی عالمی توجہ کا مرکز ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت دیا جائے جس کا وعدہ عالمی برادری نے ان سے کر رکھا ہے۔
عاصم افتخار احمد نے فلسطین کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے کی توثیق کرنے والی قرارداد 2803 پر مکمل عمل درآمد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی آزاد فلسطینی ریاست اور القدس الشریف کو اس کا دارالحکومت بنانے کے پاکستانی مؤقف کا اعادہ کیا۔
سلامتی کونسل میں اصلاحات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کونسل میں مستقل نشستوں اور ویٹو کے دائرہ کار میں توسیع کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کو زیادہ جمہوری اور جوابدہ عالمی نظام کی ضرورت ہے، اس لیے اصلاحات شفافیت اور اتفاقِ رائے کے اصولوں کے تحت ہونی چاہئیں تاکہ یہ چند مخصوص ممالک کے بجائے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے مفادات کی عکاسی کر سکیں۔