لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

پکتیا:  افغان فریڈم فرنٹ کا طالبان نائب وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ

افغانستان کے صوبہ پکتیا میں طالبان کے نائب وزیر دفاع حمیداللہ اخوندزادہ کے قافلے پر حملہ، افغان فریڈم فرنٹ کا ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ۔ پنجشیر، بدخشاں کے بعد مزاحمت مزید صوبوں تک پھیل گئی۔
پکتیا حملہ: طالبان نائب وزیر دفاع کا قافلہ نشانہ، افغان فریڈم فرنٹ کا دعویٰ

افغانستان کے صوبہ پکتیا میں طالبان کے نائب وزیر دفاع حمیداللہ اخوندزادہ کے قافلے پر حملے کی اطلاعات ہیں۔ افغان فریڈم فرنٹ نے واقعے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

July 30, 2026

افغانستان کے صوبہ پکتیا میں طالبان کے نائب وزیر دفاع حمیداللہ اخوندزادہ کے قافلے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حملے کی ذمہ داری طالبان مخالف مسلح گروپ افغانستان فریڈم فرنٹ نے قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق قافلے میں شیرزمان المعروف مخلص یار بھی موجود تھے۔ جو تحریک طالبان پاکستان کے میڈیا ونگ عمر میڈیا سے وابستہ ہیں۔ ذرائع کے مطابق حملے کے بعد دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جبکہ آخری اطلاعات تک یہ جھڑپ جاری تھی۔ واقعے میں ممکنہ جانی نقصان یا زخمیوں سے متعلق تاحال کوئی سرکاری تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ حملہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت مسلسل زور پکڑتی جا رہی ہے۔ پنجشیر اور بدخشاں کے بعد اب یہ مزاحمتی کارروائیاں دیگر صوبوں تک بھی پھیلتی دکھائی دے رہی ہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی افغان فریڈم فرنٹ نے صوبہ بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے ایک عسکری قافلے پر راکٹ حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی، جس میں تنظیم کے مطابق سات اہلکار ہلاک اور چھ زخمی ہوئے تھے۔ اسی طرح دو روز کے دوران مختلف جھڑپوں میں طالبان کے چار کمانڈر بھی مارے گئے۔

بدخشاں سے پکتیا تک

اس سے قبل صوبہ بدخشاں کے اضلاع یفتل اور زیباک میں بھی طالبان مخالف کارروائیوں میں تیزی دیکھی گئی تھی، جہاں افغانستان فریڈم فرنٹنے طالبان کے فوجی ڈرون مار گرانے اور ہیلی کاپٹروں کی لینڈنگ روکنے کے دعوے بھی کیے تھے۔

یکے بعد دیگرے مختلف صوبوں میں سامنے آنے والے ان واقعات سے سوالات جنم لے رہے ہیں کہ کیا طالبان حکومت پورے ملک پر اپنے کنٹرول کے دعوے کے باوجود بڑھتی ہوئی مزاحمت کو مؤثر طریقے سے روک پانے میں کامیاب ہے۔ تاحال طالبان حکومت کی جانب سے اس حملے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دیکھیے: سرِ پل میں مسلح مزاحمت کاروں کا طالبان پر حملہ: 1 اہلکار ہلاک

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *