افغانستان میں طالبان قیادت کے مابین اندرونی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔ طالبان کے وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی نے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینئر رہنماؤں کی وفاداری پر سوال اٹھا دیا ہے۔
قندھار میں فوجی اہلکاروں کے لیے منعقدہ ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کے امیرِ اعلیٰ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ اقتدار میں نہ رہے تو کابینہ کے بعض ارکان اگلے ہی دن ٹائی پہننا شروع کر دیں گے۔
انہوں نے گلے شکوے کے انداز میں مزید کہا کہ بعض وزرا زخمی یا بیمار طالبان جنگجوؤں کی عیادت کے لیے تو وقت نہیں نکال پاتے، لیکن معروف کرکٹرز کی تقاریب میں شرکت کے لیے فوری طور پر پہنچ جاتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیرِ انصاف کا یہ سخت بیان بظاہر طاقتور وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کی طرف اشارہ تھا، جنہوں نے حال ہی میں افغانستان کے سابق قومی کرکٹر شاپور زدران کے گھر جا کر ایک تعزیتی اجتماع میں شرکت کی تھی۔
سراج الدین حقانی گزشتہ چند برسوں کے دوران کرکٹرز اور دیگر نامور کھلاڑیوں سے متعدد عوامی ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔ تجزیہ کار ان ریمارکس کو طالبان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان نظریاتی اور انتظامی اختلافات کی ایک اور واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔
قندھار میں منعقدہ اس ورکشاپ میں وزیرِ حج و اوقاف نور محمد ثاقب، نائب وزیرِ حج محمد حامد حسیب، قندھار کے گورنر ملا محمد شیرین، ممتاز علمائے کرام، عدالتی نمائندوں اور طالبان کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔