"> طالبان قیادت میں اختلافات؛ وزیرِ انصاف کا سراج الدین حقانی پر وار
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان وزیر کا سراج الدین حقانی پر تنقیدی وار، سینئر رہنماؤں کی وفاداری پر سوال

طالبان کے وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی نے قندھار میں خطاب کے دوران بظاہر وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کابینہ ارکان کی وفاداری پر سوالات اٹھا دیے۔
طالبان وزیر کا سراج الدین حقانی پر تنقیدی وار، سینئر رہنماؤں کی وفاداری پر سوال

افغانستان میں طالبان قیادت کے اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی نے سراج الدین حقانی پر بظاہر تنقید کرتے ہوئے سپریم لیڈر کی عدم موجودگی میں وزرا کے ٹائی پہننے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔

July 17, 2026

افغانستان میں طالبان قیادت کے مابین اندرونی اختلافات ایک بار پھر نمایاں ہو کر سامنے آ گئے ہیں۔ طالبان کے وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی نے وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سینئر رہنماؤں کی وفاداری پر سوال اٹھا دیا ہے۔

قندھار میں فوجی اہلکاروں کے لیے منعقدہ ایک تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ انصاف عبدالحکیم شرعی کا کہنا تھا کہ اگر طالبان کے امیرِ اعلیٰ ملا ہبت اللہ اخوندزادہ اقتدار میں نہ رہے تو کابینہ کے بعض ارکان اگلے ہی دن ٹائی پہننا شروع کر دیں گے۔

انہوں نے گلے شکوے کے انداز میں مزید کہا کہ بعض وزرا زخمی یا بیمار طالبان جنگجوؤں کی عیادت کے لیے تو وقت نہیں نکال پاتے، لیکن معروف کرکٹرز کی تقاریب میں شرکت کے لیے فوری طور پر پہنچ جاتے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق وزیرِ انصاف کا یہ سخت بیان بظاہر طاقتور وزیرِ داخلہ سراج الدین حقانی کی طرف اشارہ تھا، جنہوں نے حال ہی میں افغانستان کے سابق قومی کرکٹر شاپور زدران کے گھر جا کر ایک تعزیتی اجتماع میں شرکت کی تھی۔

سراج الدین حقانی گزشتہ چند برسوں کے دوران کرکٹرز اور دیگر نامور کھلاڑیوں سے متعدد عوامی ملاقاتیں بھی کر چکے ہیں۔ تجزیہ کار ان ریمارکس کو طالبان کی اعلیٰ قیادت کے درمیان نظریاتی اور انتظامی اختلافات کی ایک اور واضح علامت قرار دے رہے ہیں۔

قندھار میں منعقدہ اس ورکشاپ میں وزیرِ حج و اوقاف نور محمد ثاقب، نائب وزیرِ حج محمد حامد حسیب، قندھار کے گورنر ملا محمد شیرین، ممتاز علمائے کرام، عدالتی نمائندوں اور طالبان کے دیگر اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔

دیکھیے: بلوچستان میں آپریشن شعبان جاری، 129 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *