برطانوی اخبار دی گارڈین میں پاکستانی سیاست دان رخسار احمد کی برطانیہ واپسی میں تاخیر پر تشویش کے اظہار کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حوالگیِ ملزمان کی یکطرفہ پالیسی پر بحث دوبارہ چھڑ گئی ہے۔
برطانیہ باقاعدہ معاہدہ نہ ہونے کے باوجود اپنے مقدمات میں اسلام آباد سے تعاون کا تقاضا کرتا ہے، لیکن پاکستان کے مطلوب افراد کی واپسی پر کوئی پیش رفت نہیں کرتا۔ اس کے برعکس پاکستان نے خیر سگالی کے طور پر خصوصی انتظامات کے تحت برطانوی اصل کے چھ پاکستانیوں کو پہلے ہی برطانیہ کے حوالے کیا ہے۔
تاہم، عادل راجہ، شہزاد اکبر، الطاف حسین اور حربیار مری جیسے سزا یافتہ اور پاکستان کو مطلوب افراد برطانیہ میں مقیم ہیں۔ لندن کو آزادیِ اظہار کی آڑ میں پاکستانی اشتہاریوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننا چاہیے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ سیاسی اختلاف کے نام پر ملزمان کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان ایک دوطرفہ اور باضابطہ قانونی فریم ورک قائم کیا جانا چاہیے تاکہ تمام معاملے شفاف انداز میں حل ہو سکیں۔
دیکھیے: مودی حکومت کا پیپر لیک اسکینڈل پر گھیراؤ، بھارت میں طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا