نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کے دوران پاکستان نے افغانستان کی صورتحال، سرحد پار دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے خدشات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے تفصیلی بیان میں واضح کیا ہے کہ طالبان کے برسرِاقتدار آنے کے تقریباً نصف دہائی بعد بھی افغانستان نہ تو مکمل امن کی طرف بڑھ سکا ہے اور نہ ہی ہمسایہ ممالک کے ساتھ پائیدار استحکام حاصل کیا جا سکا ہے۔
عاصم افتخار نے یو این اے ایم اے کی قائم مقام خصوصی نمائندہ جارجیٹ گیگنن اور دیگر اعلیٰ حکام کی بریفنگز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل کی رپورٹ کا نوٹس لیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کی بحالی اور اسے بین الاقوامی برادری میں جائز مقام دلانے کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد، تجارتی و ٹرانزٹ سہولیات، ویزوں کے اجرا اور اعلیٰ سطحی سفارتی رابطوں سمیت متعدد اقدامات کیے۔
پاکستان کو توقع تھی کہ طالبان ایک ذمہ دار حکومت کے طور پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کریں گے، تاہم ایسا ممکن نہیں ہو سکا۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ افغانستان طویل عرصے سے دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہو رہا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور اس کے مجید بریگیڈ، داعش خراسان، اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے خطرناک گروہ افغان سرزمیں سے متحرک ہیں اور ان کے خلاف اب تک کوئی مؤثر یا قابلِ تصدیق کاروائی نہیں کی گئی۔
پاکستانی مندوب نے انکشاف کیا کہ افغانستان سے ہونے والی اس دہشت گردی کے نتیجے میں پاکستان میں سیکیورٹی چیلنجز سنگین حد تک بڑھ گئے ہیں۔ صرف سال 2025 کے دوران پاکستان میں 5300 سے زائد دہشت گردانہ حملے ہوئے، جن میں 1200 سے زیادہ قیمتی جانوں کا زیاں ہوا۔
انہوں نے حال ہی میں 9 مئی کو خیبر پختونخوا کی پولیس چوکی پر ہونے والے کار بم حملے کا حوالہ بھی دیا، جس میں 15 اہلکار شہید ہوئے اور اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں موجود عناصر نے کی تھی۔
اپنے بیان میں سفیر عاصم افتخار نے اس تشویشناک امر پر روشنی ڈالی کہ ان دہشت گرد گروہوں کو جدید ترین ہتھیاروں اور ڈرونز تک آسان رسائی حاصل ہے۔ ان میں وہ اسلحہ بھی شامل ہے جو غیر ملکی افواج کے انخلا کے وقت افغانستان میں چھوڑا گیا تھا؛ پاکستان میں انسدادِ دہشت گردی کی کاروائیوں کے دوران ایسے جدید ہتھیاروں کی ضبطی کے 290 سے زائد واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ طالبان کی جانب سے ان گروہوں کی کھلی مذمت سے گریز اور لاتعلقی نہ اختیار کرنا ان کے ساتھ ممکنہ ملی بھگت کی نشاندہی کرتا ہے، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔
دیکھیے: خضدار میں سکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 14 دہشت گرد ہلاک