امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس نے ایران کے خلاف فضائی حملوں کی ایک بڑی لہر مکمل کر لی ہے۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائی گزشتہ روز اردن میں تعینات امریکی افواج پر کیے گئے ایرانی بیلسٹک میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
سربراہان کے مطابق ان حملوں میں ایران بھر میں پاسدارانِ انقلاب کے درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان اہداف میں فوجی کمانڈ مراکز، میزائل اور ڈرون تنصیبات، ساحلی نگرانی، دفاعی مقامات اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہم تنصیبات شامل ہیں۔
امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا بنیادی مقصد ایران اور اس کے حمایت یافتہ گروہوں کی جانب سے امریکی افواج، تجارتی بحری جہازوں اور خلیجی خطے کے ہمسایہ ممالک کو درپیش خطرات کو کم کرنا ہے۔ سینٹ کام نے واضح کیا کہ اس وقت خطے میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی مکمل چوکس ہیں اور کسی بھی پیش رفت کے لیے تیار ہیں۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے بھی جمعرات کی صبح جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں امریکی حملوں کی تصدیق کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق جزیرہ قشم اور آبادان کے اطراف میں کئی مقامات پر میزائل داغے گئے۔
صوبہ ہرمزگان کے نائب گورنر احمد نفیسی نے بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے کے قریب قشم جزیرے پر حملہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس نے بھی صوبہ خوزستان کے عہدیدار کے حوالے سے آبادان شہر کے قریب میزائل گرنے کی رپورٹ دی ہے۔
فی الحال ایران کی طرف سے جانی یا مالی نقصان کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں، جبکہ امریکی حکام نے بھی حملوں کے حتمی نتائج پر مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس پیش رفت سے خطے میں فوجی کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دیکھیے: امریکہ کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں، ایران نے پاکستان کو آگاہ کردیا، عرب میڈیا