افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جس میں سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

October 6, 2026

یمن تنازع میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو اسرائیل سے جوڑنے کی مذموم کوشش؛ ڈیجیٹل میڈیا پر حقائق کے منافی جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔

October 6, 2026

طلال چوہدری کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

October 6, 2026

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے سیاسی دعوؤں، تنظیمی صلاحیت اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کردیا۔

October 6, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی کو احتجاج اور دھرنے ختم کرنے کے بعد مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے دروازے بات چیت کیلئے کھلے ہیں۔

October 6, 2026

پنجشیر میں القاعدہ جنگجوؤں کی خفیہ سرگرمیوں کے انکشاف نے خطے سے متعلق پاکستان کا مؤقف ایک بار پھر سچ ثابت کر دیا۔

October 6, 2026

برطانوی پارلیمنٹ کا بھارت کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر سخت ردعمل

بحث کا اختتام اس موقف پر ہوا کہ انڈس واٹرز معاہدے کی بحالی اور کشمیر تنازع کا حل خطے میں امن کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی حمایت میں کئی ارکان نے کہا کہ پانی بنیادی حق ہے، جنگی ہتھیار نہیں۔
سندھ طاس معاہدہ

برطانوی پارلیمنٹ نے بھارت کی انڈس واٹرز معاہدے کی خلاف ورزی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔

July 24, 2025

برطانوی پارلیمنٹ نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ پارلیمنٹ میں ہونے والے اہم مباحثے میں ارکان نے بھارت کی اس اقدام کو خطے میں عدم استحکام اور کشمیر تنازع سے جوڑا اور سخت مذامت کی۔

لارڈ حسین نے بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر مسئلہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانا تنازع ہے۔ انہوں نے بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی اور اب انڈس واٹرز معاہدے کی خلاف ورزی کو خطے میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا تسلسل قرار دیا۔

لارڈ محمد نے بھارت کے اقدام کو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی معاہدے اس طرح یکطرفہ طور پر ختم کیے جا سکتے ہیں تو بین الاقوامی قوانین کا کوئی تحفظ نہیں رہے گا۔

بارونس گوہیر نے بھارت کی دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاہلگام حملے جیسے واقعات کی بنیاد پر معاہدہ معطل کرنا غیر اخلاقی اور خطرناک ہے۔ انہوں نے ماحولیاتی تبدیلیوں اور پانی کی قلت کے تناظر میں اس فیصلے کو مزید تباہ کن قرار دیا۔

بحث کے دوران ارکان نے واضح طور پر کہا کہ کشمیر، پانی اور علاقائی سلامتی ایک دوسرے سے جڑے مسائل ہیں۔ لارڈ پرویس نے ڈرون جنگ کے خدشات اور نیوکلیئر اسلحہ بردار ملکوں کے درمیان تناؤ پر تشویش ظاہر کی۔

برطانوی وزیر مملکت لارڈ احمد نے ممکنہ طور پر ’فور پوائنٹ پیس فریم ورک‘ کی بحالی کا عندیہ دیا، جو بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کی کوششوں کا حصہ رہا ہے۔

کئی ارکان نے مطالبہ کیا کہ برطانیہ، جو تقسیم ہند اور کشمیر تنازع میں تاریخی کردار رکھتا ہے، اپنی اخلاقی ذمہ داری پوری کرے۔ لارڈ محمد نے خبردار کیا کہ بھارت کا یہ رویہ چین کو بھی ایسے اقدامات پر اکسائے گا جو ایشیا بھر میں پانی کے بحران کو بڑھا سکتے ہیں۔

بحث کا اختتام اس موقف پر ہوا کہ انڈس واٹرز معاہدے کی بحالی اور کشمیر تنازع کا حل خطے میں امن کے لیے ناگزیر ہیں۔ پاکستان کی حمایت میں کئی ارکان نے کہا کہ پانی بنیادی حق ہے، ہتھیار نہیں۔

برطانوی پارلیمنٹ نے زور دیا کہ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کو فوری مداخلت کرنی چاہیے تاکہ سفارت کاری کے ذریعے استحکام لایا جا سکے۔

دیکھیں: افغان حکومت کا ٹی ٹی پی کو غیر مسلح کرنے اور مختلف شہروں میں بسانے کا فیصلہ

متعلقہ مضامین

افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کا جغرافیائی دائرہ وسیع ہو گیا ہے، جس میں سابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔

October 6, 2026

یمن تنازع میں پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعاون کو اسرائیل سے جوڑنے کی مذموم کوشش؛ ڈیجیٹل میڈیا پر حقائق کے منافی جھوٹا بیانیہ بے نقاب ہو گیا۔

October 6, 2026

طلال چوہدری کا دعویٰ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں بڑا بریک تھرو ہوچکا تھا، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی آخری وقت کی شرائط کے باعث مذاکرات کامیاب نہ ہوسکے۔

October 6, 2026

پی ٹی آئی کے لانگ مارچ نے سیاسی دعوؤں، تنظیمی صلاحیت اور زمینی حقائق کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کردیا۔

October 6, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *