مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا۔

August 31, 2026

گومل یونیورسٹی میں 71 افسران کی ترقیاں غیرقانونی قرار۔ تحقیقاتی رپورٹ نے صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں میں بدعنوانی اور بددیانتی کی قلعی کھول دی۔

August 30, 2026

پشاور تعلیمی بورڈ کی جانب سے فیسوں میں 148 فیصد تک اضافے پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ چارسدہ میں طلبہ نے حکومتی فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

August 30, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف 3 مسلح گروہوں نے ایک ماہ کے دوران 50 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں درجنوں طالبان جنگجوؤں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا کہا گیا ہے۔

August 30, 2026

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اندرونی اتحاد اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد سے ایران موجودہ مشکلات پر قابو پا سکتا ہے۔

August 30, 2026

پمز آتشزدگی کی عبوری تحقیقاتی رپورٹ پر 8 ذمہ دار افراد معطل کر دیے گئے، فوجداری کارروائی کی منظوری جبکہ بچے کی جان بچانے والی نرس کیلئے ستارۂ خدمت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔

August 30, 2026

افغان مہاجرین کے لیے پاکستان کی پالیسی ملکی استحکام اور عالمی اصولوں کے عین مطابق قرار

ترقی یافتہ ممالک اگر پناہ گزینوں کو نکالنے جیسے اقدامات کر سکتے ہیں تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے ان اقدامات پر دباؤ میں ڈالنا دوہرا معیار ہے
ترقی یافتہ ممالک اگر پناہ گزینوں کو نکالنے جیسے اقدامات کر سکتے ہیں تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے ان اقدامات پر دباؤ میں ڈالنا دوہرا معیار ہے

پاکستان یورپی ممالک کی طرح ملکی استحکام کے لیے پناہ گزینوں کی واپسی کے اقدامات کر رہا ہے

December 23, 2025

یورپ اپنے وسائل، مضبوط اداروں اور اقتصادی طاقت کے باوجود پناہ گزینوں کے بڑھتے ہوئے دباؤ کو سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔ یورپی ممالک امن وامان اور معاشی استحکام کے باوجود پناہ گزینوں کو نکالنے پر مجبور ہیں۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ترقی یافتہ ممالک کے لیے بھی پناہ گزینوں کے تحفظ کی عملی حدود موجود ہیں۔

پاکستان یورپی معیار کے مطابق کاربند

یورپ کے ترقی یافتہ ممالک وسائل کے باوجود پناہ گزینوں کی مکمل کفالت نہیں کر سکتے تو پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک سے یہ توقع رکھنا کہ وہ لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی خود کفالت کرے، حقیقت پسندانہ اور زمینی حقائق سے میل نہیں کھاتا۔ پاکستان محدود وسائل، بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی، بے روزگاری اور دہشت گردی جیسے داخلی چیلنجز کے ساتھ پناہ گزینوں کے اُمور بھی سنبھال رہا ہے۔

پاکستان کی دہائیوں پر محیط پالیسی

پاکستان کئی دہائیوں سے پناہ گزینوں کی میزبانی کرتا چلا آ رہا ہے جس کی مدت اور تسلسل یورپی ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ اس دوران پناہ گزینوں کو ہمیشہ عارضی پناہ دی گئی ہے مستقل قیام نہیں۔ یہی اصول اب یورپ بھی اپنا رہا ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان کی پالیسی عالمی معیارات کے مطابق ہے اور کسی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی نہیں۔

خودمختار ریاستوں کو اپنے سرحدی کنٹرول اور پناہ گزینوں کی واپسی کے نفاذ کا حق حاصل ہے۔ یورپی ممالک بھی اسی حق کے تحت پناہ گزینوں کی تعداد کو منظم کر رہے ہیں۔ پاکستان بھی داخلی استحکام اور قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے پناہ گزینوں کی واپسی کے اقدامات کر رہا ہے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین کے مطابق اگر ترقی یافتہ ممالک پناہ گزینوں کو نکالنے جیسے اقدامات کرسکتے ہیں تو ترقی پذیر ممالک پر اس معاملے میں دباؤ ڈالنا ناانصافی ہوگی۔ پاکستان کی جانب سے پناہ گزینوں کی واپسی عالمی قوانینن کے مطابق ہے اور یہ داخلی استحکام اور انسانی ہمدردی کے توازن کو برقرار رکھنے کی مؤثر حکمت عملی ہے۔

دیکھیں: طالبان کا نظم اور افغانستان کا غیر یقینی مستقبل

متعلقہ مضامین

مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا پہلا اجلاس آج استنبول میں ہوگا۔

August 31, 2026

گومل یونیورسٹی میں 71 افسران کی ترقیاں غیرقانونی قرار۔ تحقیقاتی رپورٹ نے صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام تعلیمی اداروں میں بدعنوانی اور بددیانتی کی قلعی کھول دی۔

August 30, 2026

پشاور تعلیمی بورڈ کی جانب سے فیسوں میں 148 فیصد تک اضافے پر صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ چارسدہ میں طلبہ نے حکومتی فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

August 30, 2026

افغانستان میں طالبان مخالف 3 مسلح گروہوں نے ایک ماہ کے دوران 50 حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں درجنوں طالبان جنگجوؤں کے ہلاک اور زخمی ہونے کا کہا گیا ہے۔

August 30, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *