صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ازبکستان کے ساتھ اپنے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے ازبک صدر شوکت مرزیایوف کے حالیہ تاریخی دورہ پاکستان کو دونوں ممالک کے مابین تعلقات کا سنگِ میل قرار دیتے ہوئے اس کے ثمرات پر مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے ازبکستان کے سفیر علیشر تختائیف سے دورانِ ملاقات کہی، جنہوں نے ایوانِ صدر میں صدر زرداری کو ازبک صدر کا خصوصی مراسلہ پیش کیا۔ اس خط میں صدر شوکت مرزیایوف نے پاکستان میں والہانہ استقبال، مثالی مہمان نوازی اور ‘نشانِ پاکستان’ سمیت دیگر اعزازات عطا کیے جانے پر گہرے تشکر کا اظہار کیا ہے۔
ملاقات کے دوران صدر زرداری نے زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاحت، صحت اور بینکاری کے شعبوں میں ازبکستان کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے ازبکستان کی جانب سے پاکستان سے حلال گوشت، پھل اور آلو کی درآمد میں دلچسپی کو دوطرفہ تجارت کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔ صدرِ مملکت نے اسلام آباد میں حالیہ دہشت گرد حملے کے بعد ازبک قیادت کی جانب سے ہمدردی اور حمایت کے پیغام پر بھی شکریہ ادا کیا اور خطے میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ سفر کو جاری رکھنے کے عزم کو دہرایا۔
ازبک سفیر نے صدر زرداری کو آگاہ کیا کہ ان کی حکومت اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں واقع ‘بابر پارک’ کی جدید خطوط پر تعمیر و ترقی کی خواہاں ہے، جس کے لیے متعلقہ ازبک وزیر آئندہ ہفتے پاکستان کا دورہ کریں گے۔ ملاقات کے دوران ازبک صدر کی جانب سے صدر زرداری کو دورہ ازبکستان کی دعوت کا اعادہ بھی کیا گیا، جسے صدرِ مملکت نے قبول کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ رواں سال کے دوران اس دورے کو حتمی شکل دینے کے لیے ازبک حکام سے رابطہ کریں۔
دیکھیے: ازبک صدر شوکت مرزایوف دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے