اسلام آباد: سکیورٹی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پاکستانی فوج کے افسر جنرل حسن خٹک کی مبینہ گرفتاری سے متعلق گردش کرنے والی خبریں دراصل منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد آغا جان معتصم کی گرفتاری سے توجہ ہٹانا ہے۔
ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں کچھ غیر مصدقہ پلیٹ فارمز اور افغان طالبان سے منسلک اکاؤنٹس کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ جنرل حسن خٹک کو حراست میں لے لیا گیا ہے، تاہم حکام نے ان اطلاعات کو مکمل طور پر بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا ہے۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی جھوٹی خبریں پھیلانے کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا اور اہم سکیورٹی پیشرفت، خصوصاً آغا جان معتصم کی گرفتاری، سے توجہ ہٹانا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ حربہ ماضی میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے جہاں کسی اہم کارروائی کے بعد متوازی فیک بیانیہ سامنے لایا جاتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ جنرل حسن خٹک کی گرفتاری سے متعلق کوئی حقیقت موجود نہیں اور نہ ہی اس حوالے سے کسی سرکاری یا عسکری ادارے نے کوئی بیان جاری کیا ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور سوشل میڈیا پروپیگنڈا پر یقین نہ کریں۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان اور دہشت گرد عناصر کی جانب سے اس نوعیت کی اطلاعات پھیلانا ایک منظم حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد ریاستی اداروں پر اعتماد کو کمزور کرنا اور داخلی انتشار پیدا کرنا ہے۔
واضح رہے کہ آغا جان معتصم کی حالیہ گرفتاری کو سکیورٹی اداروں کی ایک اہم کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد ایسے پروپیگنڈا بیانیے سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔
دیکھئیے:صہیونی بیانیہ اور مودی کو نصیحت