اسلام آباد: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی ضمانت درخواست میں تاخیر کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے جہاں ابھی ہائی کورٹ نے درخواست پر فیصلہ نہیں کیا تھا لیکن اسے براہِ راست اعلیٰ عدالت کے سامنے لگوا لیا گیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سزا معطلی اور ضمانت کا ضابطہ فوجداری کے سیکشن چار سو چھبیس میں بالکل واضح ہے جس کے تحت سات سال سے زیادہ سزا والے مقدمات میں اپیل کا فیصلہ دو سال تک نہ آنے پر ہی عدالت معطلی کی درخواست سن سکتی ہے۔
یہاں سزا یافتہ ہوئے محض ایک سو نو دن ہوئے ہیں جبکہ قانونی مدت سات سو تیس دن بنتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جن کا نعرہ تھا کہ انصاف میں جلدی نہیں ہونی چاہیے اب وہ قانون کے ضابطوں سے باہر نئے راستے تلاش کر رہے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سوال اٹھایا کہ جب ہائی کورٹ میں کیس زیر التوا ہے تو سپریم کورٹ براہِ راست میرٹس پر کیسے جا سکتی ہے۔
عدالت نے مرکزی اپیل پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کی پیشکش کی لیکن وکیل صفائی نے سزا معطلی پر ہی اصرار کیا۔ جسٹس نعیم اختر افغان نے وکیل کو ضابطہ فوجداری پڑھنے کا حکم دیا جس سے یہ واضح ہوا کہ قانونی تاخیر کی بنیاد پر ابھی ضمانت کا حق نہیں بنتا تھا۔ وکیل کا کہنا تھا کہ وہ تاخیر نہیں بلکہ حالات کے عبوری جائزے کی بنیاد پر ریلیف مانگ رہے ہیں۔
ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے لیے کچھ مخصوص تنظیموں اور یورپی یونین کے نمائندوں کی غیر معمولی دلچسپی نے بھی کئی سوالات کو جنم دیا ہے. کمرہ عدالت میں یورپی یونین کے نمائندے کی موجودگی کو عدالتی عمل پر دباؤ ڈالنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اصل ہدف پیکا قانون ہے اور ایک مخصوص کیس کو بنیاد بنا کر ریاستی اختیار کو چیلنج کیا جا رہا ہے. عدالت نے آخر کار اسلام آباد ہائی کورٹ کو دو ہفتے میں ضمانت کا فیصلہ کرنے کی ہدایت دے دی ہے لیکن عام شہری اب بھی یہی سوال کر رہے ہیں کہ کیا غریب ملزمان کی درخواستیں بھی اسی رفتار سے سنی جاتی ہیں۔