بھارتی نوجوانوں کی تحریک کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج کامیاب ہوگیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم نریندر مودی کو بھجوا دیا، جسے وزیرِ اعظم نے قبول کر لیا ہے۔
اس سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان آشوتوش رنکا نے حکومت کو مطالبات تسلیم کرنے کے لیے دوپہر تک کی مہلت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے مذاکرات کے لیے سہ پہر ساڑھے 3 بجے سے 4 بجے تک کا وقت دیا ہے اور وزیرِ تعلیم کے استعفے کے معاملے پر واضح جواب دینا ہوگا۔
گزشتہ روز حکومت سے مذاکرات کے بعد طلبہ نے خبردار کیا تھا کہ اگر وزیرِ تعلیم مستعفی نہ ہوئے تو احتجاج پورے ملک میں پھیلا دیا جائے گا۔
آشوتوش رنکا نے سونم وانگچک کے خلاف سوشل میڈیا مہم کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 26 روز تک بھوک ہڑتال کرنے والے شخص کو نشانہ بنانا افسوسناک ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھارتی حکومت زبانی طور پر طلبہ کے دو مطالبات تسلیم کر چکی تھی، جن میں سے ایک 20 جولائی کے مظاہرے کے بعد پولیس کی جانب سے طلبہ کے خلاف درج مقدمات کی واپسی تھی، جبکہ دوسرا امتحانی نظام میں خرابی کے باعث خودکشی کرنے والے 20 سے زائد طلبہ کے لواحقین کو ایک، ایک کروڑ روپے ہرجانہ ادا کرنا تھا۔
دیکھیے: نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا