افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے مبینہ فوجی کارروائیوں میں ہلاکتوں کے دعوؤں اور جاری کردہ تصاویر پر شدید تنقید سامنے آئی ہے۔ ایک حالیہ بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ طالبان حکومت دہشت گردوں کے خلاف اقدامات کو متنازع بنانے کے لیے منظم مہم چلاتی ہے۔
بیان کے مطابق عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر کارروائیوں کے بعد ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے صرف خواتین اور بچوں کی تصاویر جاری کی جاتی ہیں۔ مبصرین نے سوال اٹھایا ہے کہ کارروائیوں میں نشانہ بننے والے بالغ مردوں کی شناخت اور ان کی عسکری سرگرمیوں سے متعلق معلومات کیوں چھپائی جاتی ہیں۔
بیان میں افغان طالبان رجیم پر فتنہ الخوارج سے وابستہ عناصر کو پناہ، اسلحہ اور محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ الزامات کے مطابق کارروائیوں میں ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کو بعد میں عام شہری ظاہر کرنے کی دانستہ کوشش کی جاتی ہے۔
تجزیہ کاروں نے ذبیح اللہ مجاہد کے اس موقف کو گمراہ کن پراپیگنڈا قرار دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق ایسے بے بنیاد دعوؤں کا مقصد زمینی حقائق کو مسخ کرنا اور افغانستان میں موجود کالعدم عسکریت پسندوں کی موجودگی پر پردہ ڈالنا ہے۔
دیکھیے: نورستان کامدیش میں طالبان کی چوکیاں مزاحمتی فورسز کے قبضے میں