شریعتِ اسلامیہ میں کسی مسلمان کا نا حق خون بہانا اور تکفیری نظریات کے تحت دہشت گردی کرنا شدید ترین جرم اور شرک کے بعد سب سے بڑا ظلم ہے۔ قرآنی نصوص اور احادیث سے ثابت ہے کہ مومن کی جان کی حرمت خانہ کعبہ سے بھی زیادہ ہے۔
اسلام آباد میں تعلیمی فراڈ کا شکار ہونے والی ذہین طالبہ لائبہ کی خودکشی کا دلخراش واقعہ، جہاں جعلی ایجنٹوں کی ہوس نے ایک اور ہونہار طالب علم کا مستقبل اور پورا خاندان اجاڑ دیا۔
واٹس ایپ گروپس کی لڑائیاں اور ایک دوسرے کو ایکسپوز کرنے کی دھمکیاں ثابت کرتی ہیں کہ جدوجہد اب بانی کی رہائی یا عوامی مسائل کی نہیں، بلکہ محض اقتدار کے بٹوارے اور ذاتی انا کی رہ گئی ہے۔
آٹھ اکتوبر 2005 کا سانحہ محض نوحہ خوانی کا دن نہیں بلکہ قومی احتساب کا تقاضا کرتا ہے۔ 21 برس بعد بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہم آئندہ کی قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں؟
کرم آپریشن میں ہلاک دہشتگردوں کی افغان شناخت نے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں دہشتگردی کے تانے بانے سرحد پار سے ہی ملتے ہیں۔ کابل کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
خیبر پختونخوا میں شہدا کے لیے ایمبولینسز کا فقدان جبکہ لانگ مارچ میں سرکاری گاڑیوں کی بھرمار نے حکومتی ترجیحات اور ہنگامی وسائل کے استعمال پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
مزار شریف، بدخشاں اور زابل سمیت کابل اور قندھار تک سکیورٹی اور انٹیلیجنس حکام پر حملوں کا دائرہ طالبان کے دعووں کے برعکس گہرے داخلی بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔