Category: جنوبی ایشیا

پاکستان اور افغانستان کے قبائل کے درمیان باجوڑ میں تاریخی جرگہ کامیاب؛ کنڑ سے مہمند تک جنگ بندی اور تجارتی راستے کھولنے پر اتفاق۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے دیئے گے نئے امن منصوبے میں حیرت انگیز لچک سے اس خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ایران  ناکہ بندی بحری قذاقی اور حالیہ جنگ میں ہونے والے ناقابل برداشت  نقصان سے دوچار ہے۔ جو مزید جنگ جاری رکھنے کامتحمل نہیں ہو پا رہا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے میزائل حملوں کو معمولی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران نے سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کی؛ میزائلوں سے نقصان بہت کم ہوا۔

سعودی ولی عہد کا اماراتی صدر کو فون؛ ایران کے حملوں کی مذمت اور پاکستان کی مصالحتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعلان۔

پاک بحریہ نے بحیرہ عرب میں خراب موسم اور تکنیکی خرابی کا شکار بھارتی جہاز ایم وی گوتم کے عملے کو ممبئی ایم آر سی سی کی کال پر بروقت کاروائی کرتے ہوئے بچا لیا۔

ممتاز عالمِ دین مولانا محمد ادریس ترنگزئی چارسدہ میں شہید؛ ریاستِ پاکستان کی حمایت اور آرمی چیف کی تائید پر المرصاد کی جانب سے ملنے والی دھمکیوں کے بعد قاتلانہ حملہ۔

یہ رپورٹ سکھ علیحدگی پسند تحریک، بھارتی ریاستی پالیسیوں اور کینیڈا و امریکا میں بڑھتی سفارتی کشیدگی کے تناظر میں ایک سنگین عالمی مسئلے کو بے نقاب کرتی ہے۔

بھارتی آرمی چیف کی جانب سے ملٹی ڈومین وارفیئر، اسٹریٹجک کانفیڈنس اور دفاعی جدیدیت کا ذکر ماہرین کے مطابق خطے میں اسلحے کی دوڑ کو مزید تیز کر رہا ہے۔

شیخ حسینہ واجد نے اپنے بیان میں کہا کہ میرے خلاف لگائے گئے الزامات جھوٹے ہیں،حامی پریشان نہ ہوں، انھیں فیصلہ جاری کرنے دیں، مجھے اس کی پرواہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان سے آئے تمام علماء صرف شرکت کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی جانب سے اخوت، محبت اور یکجہتی کا پیغام لے کر بنگلادیش پہنچے ہیں۔

تہران کے آبی ذخائر نصف ہو چکے ہیں اور موجودہ صورتحال میں یہ بحران آنے والے ہفتوں میں خطرناک موڑ اختیار کر سکتا ہے۔

نگران وزیرِاعظم پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش اس وقت ایک نازک دور سے گزر رہا ہے، اس لیے حکومت منصفانہ ریفرنڈم اور پارلیمانی انتخابات کو یقینی بنائے گی

یہ مسئلہ اب صرف دو ریاستوں کا نہیں، بلکہ دو قوموں کے درمیان گہرے ثقافتی، مذہبی اور تاریخی تعلقات کا مضمون ہے۔

اختتامی بیان میں طالبان وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر کوئی ملک افغانستان کی خودمختاری پر حملہ کرے گا تو اسلامی امارت دفاع کرے گی۔

ماہرین کے مطابق بھارت نہ تو افغان عوام سے ہمدردی رکھتا ہے اور نہ ہی اسے امن کی کوئی فکر ہے، بلکہ اس کی اصل دلچسپی پاکستان کو غیر مستحکم دیکھنے میں ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کے اہم کمانڈر موجود ہیں، جہاں انہیں باقاعدہ مالی معاونت اور اسلحہ سمیت دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں