Category: سفارت کاری

بلوچستان میں بی ایل اے اور بی ایل ایف کے درمیان دیرینہ تنازعات شدت اختیار کر گئے ہیں، جہاں غداری کے الزامات، نام نہاد عدالتوں کی سزاؤں اور طبقاتی تضاد نے ان کے داخلی زوال کو نمایاں کر دیا ہے۔

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ کے دورے کے دوران سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور باہمی امور پر تبادلہ خیال ہوا۔

کابل میں شہری مقامات کو عسکری ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کے شواہد نے طالبان حکام کی جانب سے جنیوا کنونشنز کی خلاف ورزی اور تنصیبات کی محفوظ حیثیت کے خاتمے سے متعلق سنگین قانونی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

بین الاقوامی انسانی قانون کی روشنی میں طالبان حکام کی جانب سے کابل میں شہری مقامات کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جو جنیوا کنونشنز اور روم اسٹیچوٹ کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

پاک افواج نے معرکۂ حق کی پہلی سالگرہ پر قومی دفاع کی تاریخی کامیابی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے دشمن کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی مہم جوئی کا جواب پہلے سے زیادہ طاقت اور عزم کے ساتھ دیا جائے گا۔

جنگ بندی سے متعلق امریکی تجاویز اب سکڑ کر ایک صفحے تک محدود ہو گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے بقول، 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ، جسے امریکا نے "آپریشن ایپک فیوری" کا نام دیا تھا، اب ختم ہو چکی ہے۔

عطا تارڑ نے مزید کہا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ اس پیچیدہ مسئلے کا حل بات چیت اور افغان حکام کی جانب سے غیر ریاستی عناصر پر کنٹرول کے ذریعے ممکن ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستان افغان عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی کے بیان کو مسترد کرتا ہے جو انھوں نے انڈیا میں دیے۔‘

دفتر خارجہ کے مطابق طاہر حسین اندرابی بین الاقوامی سلامتی کے شعبے میں بطور اضافی سیکرٹری کے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اور ساتھ ساتھ پاکستان نیشنل اتھارٹی کے سربراہ بھی ہیں۔

پاک افغان سرحدی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حالات میں قیامِ امن کی امیدیں معدوم ہوتی جارہی ہیں

وزارت کے مطابق یہ جنگ بندی طالبان کی درخواست پر طے پائی ہے اور دونوں فریقین کے درمیان جاری کشیدگی کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

پاکستان نے افغان طالبان پر دہشت گردوں کو پناہ دینے اور سرحد پار دراندازی میں مدد کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ٹی ٹی پی کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا

یاد رہے کہ پاکستان نے رواں سال مئی میں طالبان حکومت کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو اپ گریڈ کیا تھا، جس کے بعد بھارت کا یہ اقدام جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندی کی نشاندہی کرتا ہے۔

تاریخی طور پر بھارت اور افغانستان کے درمیان دوستانہ تعلقات رہے ہیں، لیکن 2021 میں امریکا کے افغانستان سے انخلا اور طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے بعد نئی دہلی نے کابل میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا تھا۔

دورانِ ملاقات خطے کی امن و سلامتی بالخصوص دہشت گردی جیسے مسائل پر تفصیلاً گفتگو کی گئی

عاصم افتخار نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور جموں کشمیر کے تنازعات کے حل کے بغیر امن کا قیام ناممکن ہے