Category: سفارت کاری

افغان اسپیشل فورسز کے اہلکار کا ٹی ٹی پی کے ساتھ مل کر پاکستانی حدود میں لڑنا محض 'انفرادی فعل' نہیں بلکہ یہ کابل کے ان دعوؤں کی نفی ہے کہ وہ اپنی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔

خلیل الحیہ کے بیٹوں کی شہادت کا سلسلہ 2008 اور 2014 میں غزہ پر ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران شروع ہوا تھا، جب ان کے دو بیٹے مارے گئے تھے۔ گزشتہ سال قطر کے دارالحکومت دوحہ میں حماس کی قیادت کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے ایک مبینہ حملے میں ان کا تیسرا بیٹا شہید ہوا

پاکستان نے نہ صرف بھارتی فضائی حملے کو ناکام بنایا بلکہ دشمن کے چار جدید ترین رافیل طیاروں سمیت آٹھ جنگی جہاز مار گرائے۔ حیران کن بات یہ تھی کہ پاکستان کا ایک بھی طیارہ تباہ نہ ہوا۔ اس رات صرف میزائل اور جہاز نہیں گرے تھے، بلکہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن سے متعلق کئی دیرینہ تصورات بھی زمین بوس ہو گئے تھے۔

ٹرمپ نے اپنی ترجیحات واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران سے افزودہ یورینیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گردی اور تشدد کا ایک ایسا نیٹ ورک پروان چڑھ چکا ہے جس کے لیے انسانی جان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو ختم کرنے یا ان کے خلاف کسی بڑے کریک ڈاؤن کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ ہر حملے کے بعد مذمت کرنا اب ایک تکراری عمل بن چکا ہے، جس سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ یہ بیانات جوابدہی کے بجائے محض 'ڈیمیج کنٹرول' کی کوشش ہیں۔

او آئی سی 51ویں کانفرنس کے موقع پرپاکستان کے نائب وزیرِاعظم و زیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور افغامستان کےعبوری وزیرِخارجہ امیرخان متقی درمیان اہم ملاقات

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی دو گھنٹے کی طویل ملاقات

ناروے نے طالبان کی عبوری حکومت کے مقررکردہ سفارتکار کو باضابطہ طورپرقبول کرلیاہے۔

جنرل عاصم منیرکی امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ سے ملاقات جس میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا

ایران: آیت اللہ خامنہ ای نےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات کو مسترد کردیا

حالیہ جنگی صورتحال میں بھارت کی ایران دشمنی کھل کر سامنے آگئی ہے۔ بھارت کے حالیہ طرزِعمل نے اس کے اصل اہداف کو ظاہر کردیا ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے آج ظہرانے پر جنرل عاصم منیر کی دعوت پاک-امریکہ تعلقات میں بہتری کی علامت ہے۔

ایران جنگ شدت اختیار کر گئی؛ تہران میں دھماکے ٹرمپ کا ایرانی فضائی حدود پر کنٹرول کا دعویٰ۔

ایران-اسرائیل کشیدگی کے باعث اڈانی گروپ کے مشرق وسطیٰ میں معاشی اور دفاعی منصوبے خطرے میں ہیں، جو بھارت کے سیاسی اتحاد کو متاثر کر سکتے ہیں۔