امریکہ نے بھارتی مخالفت کے باوجود پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 488 ملین ڈالر کی تکنیکی معاونت کا ایوارڈ جاری کر دیا ہے، جس سے ملکی فضائی دفاع مزید مضبوط ہوگا۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں قانونی کارروائیوں کو 'خلاف ورزی' قرار دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین نے اسے غیر جانبدارانہ رپورٹ کے بجائے 'کلوزڈ سرکٹ نیریٹیو' قرار دے دیا۔
پاکستان نے الجزیرہ کی جانب سے وزیراعظم آفس کے ذرائع سے منسوب خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو فوجی فیصلے سے متعلق درخواست کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد؛ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان سرحد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے طالبان حکومت کی سفاکیت قرار دے دیا؛ باجوڑ میں خواتین اور بچوں سمیت نو شہریوں کی شہادت پر گہری تشویش کا اظہار۔
مشن کے دوران چھوٹے سیارچے نما آلات بھی خلا میں چھوڑے جائیں گے، جو خلا کے خطرناک ماحول، شعاعوں اور شمسی اثرات کا جائزہ لیں گے۔ یہ معلومات مستقبل کے چاندی اور دیگر خلائی مشنز کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں زیادہ تر وہی نکات دہرائے جو وہ گزشتہ دنوں اپنے بیانات اور سوشل میڈیا پیغامات میں پیش کر چکے ہیں، تاہم اس کے باوجود پالیسی کی سطح پر واضح سمت کا فقدان نمایاں رہا۔
سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان نے لبنان میں تین انڈونیشیائی امن پسندوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے
ایران نے سعودی عرب، قطر، یو اے ای اور کویت کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین ایران کے خلاف امریکی یا اسرائیلی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دیں، بصورتِ دیگر جوابی کاروائی کی جائے گی
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اب ہر ملک کی مدد نہیں کرے گا، آپ کو خود لڑنا سیکھنا ہوگا، امریکا اب آپ کی مدد کے لیے موجود نہیں ہو گا، بالکل اسی طرح جیسے آپ ہمارے ساتھ نہیں تھے۔
امریکا ایران کے ساتھ ایک “نئی اور زیادہ معقول قیادت” کے تحت سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے، تاہم اگر معاہدہ جلد طے نہ پایا اور آبنائے ہرمز بند رہی تو امریکا سخت کارروائی پر مجبور ہوگا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم پاکستان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک گھنٹہ طویل ٹیلیفونک رابطہ؛ اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال