طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس وقت ایک ایسے نظریاتی حصار میں ہے جہاں 'نیشن اسٹیٹ' کے تصور کو مسترد کر کے قومی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی مبینہ پشت پناہی، انسانی حقوق کی پامالی اور معاشی ناکامیوں نے کابل انتظامیہ کو عالمی تنہائی اور علاقائی انتشار کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
طالبان کے حکم کے تحت اداروں کے ناموں سے “قومی” ہٹانا محض انتظامی تبدیلی نہیں بلکہ قومی شناخت اور عالمی تعلقات پر اثرانداز ہونے والا اقدام سمجھا جا رہا ہے۔
افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ نے افغانستان میں نجی مدارس کے قیام پر پابندی عائد کرتے ہوئے تمام مدارس کو وزارتِ تعلیم کے کنٹرول میں دینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں امن، پاک ایران تعاون اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہا، جس میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، علاقائی امن و استحکام کے فروغ اور دیگر اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم پاکستان اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ایک گھنٹہ طویل ٹیلیفونک رابطہ؛ اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال
امریکی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں طالبان کے خلاف قوانین کی تیاری؛ خواتین پر پابندیوں کو عالمی جرائم قرار دینے کی تجویز۔ امریکی فنڈز کو طالبان تک پہنچنے سے روکنے کے لیے امدادی طریقۂ کار میں بڑی تبدیلیوں کا امکان
پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی؛ اسلام آباد کے دباؤ پر اسرائیل نے ایرانی وزیرِ خارجہ اور اسپیکر پارلیمنٹ کو ہٹ لسٹ سے نکال دیا۔ رائٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل نے مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کی تصدیق کر دی
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایران دفاعی پوزیشن پر نہیں بلکہ مضبوط مؤقف کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی معاہدے کیلئے اپنے مفادات کا مکمل تحفظ کرے گا
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے صدر ٹرمپ کا 15 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے تہران کو ارسال کر دیا گیا۔ جہاں امریکا نیوکلیئر پروگرام پر پابندی چاہتا ہے، وہیں ایران نے مالی معاوضے اور میزائل پروگرام پر سمجھوتہ نہ کرنے کی جوابی شرائط رکھ دی ہیں
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 8 ممالک کی جانب سے سلامتی کونسل میں مشترکہ بیان پیش کرتے ہوئے فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کی شدید مذمت کی ہے