خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع نے یہ بھی الزام عائد کیا ہے کہ افغان طالبان سے منسلک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جھوٹے دعوے اور مبینہ جعلی ویڈیوز پھیلائی جا رہی ہیں تاکہ زمینی حقائق کو مسخ کیا جا سکے۔
افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے دہشت گرد گروہوں کی موجودگی سے انکار کو عالمی ماہرین نے حقائق کے منافی قرار دے دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کی رپورٹس افغانستان میں 20 سے زائد شدت پسند تنظیموں کی نشاندہی کر رہی ہیں
معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ نے پاک افغان مذاکرات کو ایک 'سراب' قرار دیتے ہوئے طالبان کے بیانیے اور اقدامات میں موجود تضاد کو خطے کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ القاعدہ اور داعش سے وابستہ بعض زخمی افراد کو بھی کابل کے فوجی اسپتال، جسے اردو نظامی اسپتال کہا جاتا ہے، منتقل کیا گیا ہے۔ انہی ذرائع کے مطابق سرحدی جھڑپوں میں طالبان کے بارڈر گارڈز کے بعض اہلکار بھی زخمی ہوئے جنہیں فوجی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن ( یوناما) کی حالیہ رپورٹ کو دفاعی ماہرین نے حقائق سے بعید اور جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے، جس میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی کو نظرانداز کر کے یکطرفہ بیانیہ اپنایا گیا ہے
افغانستان میں برسرِاقتدار طالبان کے اندرونی حلقوں میں شدید سیاسی خلفشار کی اطلاعات ہیں، جہاں افغان مجلسِ شوریٰ موجودہ امیر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی جگہ نئی قیادت لانے پر غور کر رہی ہے
ذرائع کے مطابق کم از کم 20 قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک جرگہ افغانستان کے جنوبی زون کے لیے صوبہ پکتیا کے گورنر مہر اللہ حمد سے ملا۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی جب مبینہ حملوں میں مارے گئے افراد کی لاشیں نکالی جا رہی تھیں اور طالبان نے واقعے کے مقام تک عام شہریوں کی رسائی محدود کر رکھی تھی۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کا کہنا ہے کہ اس کارروائی میں اس کے کسی اہلکار یا شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔ طالبان حکام کی جانب سے اس دعوے پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مارے جانے والوں میں کمانڈر اخسان اللہ، مولوی عباس بنوچی، مولوی صابر محسود، کمانڈر ابو یاسر، کمانڈر کاروان اور کمانڈر عمر محسود کے نام لیے جا رہے ہیں، جبکہ کمانڈر ثاقب، ابو یاسر اور تبسم کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم ان ناموں اور تعداد کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔