خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اس نوعیت کے سرکاری و تجارتی دورے ملک کی اقتصادی ترقی، تجارت کے فروغ اور قومی معیشت کو مضبوط بنانے میں نہایت اہم اور مؤثر کردار ادا کرتے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امارتِ اسلامیہ افغانستان نے جرمنی میں اپنے سفارتی مشن میں تبدیلی کا عمل شروع کیا ہے۔ 2021 کی تبدیلی سے پہلے جرمنی بھیجے گئے 13 سفارت کار نومبر 2024 سے واپس بلا لیے گئے
دوسرا گروہ کابل میں موجود طاقتور طالبان وزرا پر مشتمل ہے، جو خود کو زیادہ عملیت پسند قرار دیتا ہے۔ اس گروہ میں نائب وزیر اعظم عبدالغنی برادر، وزیر داخلہ سراج الدین حقانی اور وزیر دفاع محمد یعقوب مجاہد شامل ہیں۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے آخر میں کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی فضا کی بحالی کے لیے مثبت اشاروں اور عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یقین ہے کہ اگر دہشت گردی کے مسئلے کو سنجیدگی سے حل کیا جائے تو پاک افغان تعلقات ایک نئے اور بہتر دور میں داخل ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ چند سالوں میں این ایم ایف نے کئی حملے کیے، جن میں کاپیسا، ننگرہار، کوہستان اور شمالی علاقوں میں طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔2024 میں این ایم ایف نے پاکستان کی سرحد پر ننگرہار کے لالپور ضلع میں ایک بڑا حملہ کیا، جس میں متعدد طالبان اور پاکستانی ٹی ٹی پی ارکان ہلاک ہوئے۔
افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی اور یو این اے ایم اے کی قائم مقام سربراہ جارجٹ گیگنن کے مابین ملاقات میں دوحہ عمل کے تحت ورکنگ گروپس کی پیش رفت، انسداد منشیات اور نجی شعبے کی معاونت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا
ذرائع کے مطابق باغِ بالا وہ تاریخی مقام ہے جہاں افغان شاہ کا محل واقع ہے، جسے اشرف غنی کے دورِ حکومت میں امریکی فنڈز سے دوبارہ تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ مقام تاریخی ورثہ ہونے کے باعث عوامی اور تجارتی تعمیرات کے لیے ممنوع قرار دیا گیا تھا۔ تاہم الزام ہے کہ مولوی عبدالحکیم حقانی نے چیف جسٹس کی حیثیت سے خصوصی اجازت دے کر یہاں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی۔