Category: سفارتکاری

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد آمد؛ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر چار ملکی مشاورتی اجلاس میں اہم فیصلے متوقع

پاکستانی قیادت نے تہران، ریاض، ابوظبی، قاہرہ، استنبول اور برسلز سمیت مختلف عالمی دارالحکومتوں کے رہنماؤں سے مسلسل رابطے کیے

امریکی رکنِ کانگریس ٹام سوازی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک اہم غیر جانبدار فریق ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی بریفنگ میں پاکستان کی عسکری قوت، جغرافیائی اہمیت اور اقتصادی سرمایہ کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال

وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ملائیشیا نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور امریکہ ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کر دی

امیر قطر نے خطے میں امن کیلئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا، جبکہ دونوں رہنماؤں نے آئندہ دنوں میں قریبی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا

پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی، جس کی ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھرپور تائید کی۔ یہ اقدام خطے میں پائیدار امن کے لیے ایشیائی ممالک کی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے

وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ؛ عید کی مبارکباد، سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی مذمت اور ہر مشکل گھڑی میں مملکت کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ

آصف محمود نے عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “میڈ مین تھیوری” دراصل ایک حکمت عملی تھی، تاہم ایران کے ردعمل نے اسے غیر مؤثر ثابت کر دیا، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز میں بھی اس کا عملی خاتمہ نظر آیا۔

امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے

سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ان کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور تمام تنازعات کا حل نکالنا ہے۔ امریکی ذریعے کے مطابق ثالثی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور جلد مثبت نتائج کی امید ہے۔”