شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟
کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
امریکی رکنِ کانگریس ٹام سوازی کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک اہم غیر جانبدار فریق ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں ثالثی کا بہترین کردار ادا کر سکتا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والی بریفنگ میں پاکستان کی عسکری قوت، جغرافیائی اہمیت اور اقتصادی سرمایہ کاری پر تفصیلی تبادلہ خیال
وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ؛ ملائیشیا نے مشرقِ وسطیٰ میں امن اور امریکہ ایران مذاکرات کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی بھرپور حمایت کر دی
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی، جس کی ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم نے بھرپور تائید کی۔ یہ اقدام خطے میں پائیدار امن کے لیے ایشیائی ممالک کی مشترکہ کوششوں کی عکاسی کرتا ہے
وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ؛ عید کی مبارکباد، سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی مذمت اور ہر مشکل گھڑی میں مملکت کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اعادہ
آصف محمود نے عالمی تناظر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی “میڈ مین تھیوری” دراصل ایک حکمت عملی تھی، تاہم ایران کے ردعمل نے اسے غیر مؤثر ثابت کر دیا، حتیٰ کہ آبنائے ہرمز میں بھی اس کا عملی خاتمہ نظر آیا۔
امریکا اور ایران جیسے دیرینہ حریفوں کے درمیان پل بننا، اسلامی دنیا کے بڑے ممالک کے ساتھ ہم آہنگی، اور عالمی سطح پر بڑھتی پذیرائی، یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان عالمی سیاست میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے
سفارتی کوششیں جاری ہیں اور ان کا مقصد جنگ کا خاتمہ اور تمام تنازعات کا حل نکالنا ہے۔ امریکی ذریعے کے مطابق ثالثی کا عمل آگے بڑھ رہا ہے اور جلد مثبت نتائج کی امید ہے۔”