Category: سفارتکاری

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

کوہاٹ پولیس لائنز کی مسجد پر خودکش حملے میں 16 افراد شہید اور 40 سے زائد زخمی ہوئے، افغانستان میں موجود گروہ نے ذمہ داری قبول کرلی۔

افغان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے انٹرویو پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کو اندرونی معاملہ قرار دینے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے امن کے لیے سنجیدہ اقدامات پر زور دیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کل تہران کا دورہ کریں گے جہاں وہ ایرانی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے۔

شارجہ بندرگاہ کے قریب پاناما کے جہاز پر 8 پاکستانی ملاح 11 ماہ سے عارضی سفری اجازت نامے نہ ملنے کے باعث محصور ہیں، جس سے شدید انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔

شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی کی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات، دفاع، تجارت اور براہِ راست پروازوں کی بحالی سمیت اہم امور پر گفتگو۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سے ملاقات، دو دہائیوں بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ۔

وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو ایک بار پھر بامقصد مذاکرات کی دعوت، کہا تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفونک گفتگو، خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی حل تلاش کرنے پر تبادلہ خیال۔

پاکستان نے شام کے ابو الظہور ایئر بیس پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے روسی سفیر البرٹ پی خوروف کی ملاقات، دوطرفہتعلقات، معاشی و دفاعی تعاون اور علاقائی صورتحال پر گفتگو۔

پاکستان نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی تخفیف اسلحہ کانفرنس کی صدارت سنبھال کر عالمی سطح پر ایک اور اہم سفارتی کامیابی حاصل کر لی ہے۔

نیپال کے بعد بنگلہ دیش نے بھی بھارت کو آئینہ دکھا دیا؛ ڈھاکہ نے بھارتی دورے کو شیخ حسینہ کی حوالگی سے مشروط کرتے ہوئے نئی دہلی کی سفارتی ناکامی واضح کر دی۔