وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خصوصی خط کونسل کی صدر کے حوالے کر دیا ہے۔
امریکہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چین جاتے ہوئے پاکستان میں مختصر قیام متوقع ہے، جو اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورۂ چین کا اعلان کر دیا؛ بدھ کو بیجنگ پہنچیں گے جہاں مشترکہ تجارتی بورڈ کی تشکیل اور توانائی سمیت اہم شعبوں پر بات چیت ہوگی۔
دونوں وزرائے اعظم نے علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت کا عمل جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ قطر کے ساتھ مضبوط شراکت داری کو مزید وسعت دینا پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں شامل ہے اور وہ دوطرفہ تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پرعزم ہیں۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف 23 مئی سے چین کے پانچ روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہوں گے، جہاں وہ صدر شی جن پنگ سے ملاقات اور سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کریں گے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں علاقائی امن اور ایرانی شہریوں کی واپسی میں پاکستانی تعاون پر گفتگو کی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا، جس میں خطے میں امن، پاک ایران تعاون اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد؛ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار۔