یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
دکھ اس بات کا ہے کہ عالمی طاقتیں ظلم کو اپنی سیاسی ترجیحات کی کسوٹی پر پرکھتی ہیں۔ کہیں یہ قتلِ عام "سکیورٹی" کے نام پر جائز ٹھہرتا ہے اور کہیں اسے "دہشت گردی کے خلاف جنگ" کی آڑ ملتی ہے۔
پہیہ جام ہڑتال نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ پاکستان کو ٹرانسپورٹ پالیسی کے حوالے سے مستقل، دیرپا اور اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت پر مبنی حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ اگر اس بار بھی دونوں فریق انا کے محاذ سے پیچھے نہ ہٹے تو نقصان صرف عوام کا ہوگا اور ایک بار پھر ریاستی کمزوری اور انتظامی بدنظمی پوری شدت سے سامنے آئے گی۔
طالبان کے تین برسوں میں معاشی سرگرمیاں منجمد ہو گئیں، روزگار کے مواقع ختم ہو گئے اور حکمرانی کا شدید خلا پیدا ہو گیا۔ ملک اس مقام تک پہنچ چکا ہے کہ عوام کے لیے آنے والے دن محض بقا کی جنگ سے زیادہ کچھ نہیں۔ اوچا کے مطابق جس نصف آبادی کو فوری امداد کی ضرورت ہے، وہ دراصل بڑے بحران کی ایک جھلک ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ باقی نصف بھی غربت، غذائی قلت، مہنگائی اور سماجی انتشار کی لپیٹ میں ہے۔
ایکس کے فیچر کے ذریعے انکشاف ہوا کہ متعدد وہ اکاؤنٹس جو بلوچ شناخت کے ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈا چلا رہے تھے، دراصل بھارت میں موجود افراد آپریٹ کر رہے تھے۔
بھارت کی سفارتی پیش قدمی، پاکستان کی سرخ لکیریں، اور افغانستان کا متبادل راستوں کی تلاش کرنا؛ یہ سب خطے کے اس نازک لمحے کو تشکیل دے رہے ہیں جس پر جغرافیہ اور عسکری اقدمات کے اثرات گہرے ہیں۔
دوسری جانب ایران، جس نے چابہار میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، افغانستان کی مغربی گزرگاہ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزیزی کا دہلی کا دورہ تہران کے لیے ایک نہایت حساس اشارہ بن سکتا ہے۔