یکم ستمبر 1965 کا آپریشن گرینڈ سلیم اور پاک فضائیہ کا فضائی حملہ جنگِ ستمبر کا موڑ ثابت ہوا، جس نے بھارتی عسکری قیادت کو بوکھلا کر جنگ عالمی سرحدوں تک پھیلانے پر مجبور کر دیا۔
افغانستان کا مستقبل صرف اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے جب وہ خطے کے ہمسایہ ممالک کے خدشات کو سنجیدگی سے لے اور عملی اقدامات کے ذریعے اعتماد بحال کرے۔ ورنہ کابل کے دعوے محض الفاظ رہیں گے۔
یہ بیانیہ سیاسی فائدے کے لیے عوامی تحفظ کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب ریاست کی شدت پسندی کے خلاف عزم پر سوال اٹھتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان عوام کو ہوتا ہے۔
پاکستان کے پاس ایک موقع ہے کہ وہ بی ایل اے کی نامزدگی کو استعمال کرتے ہوئے عالمی تعاون حاصل کرے۔ تاہم کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ داخلی سطح پر متحد پالیسی اپنائی جائے اور عالمی برادری کو باور کرایا جائے کہ سرحد پار دہشت گردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔
مبصرین کے مطابق اگر افغان حکومت یکطرفہ بیانیہ جاری رکھتی ہے اور پاکستان کے تحفظات کو نظرانداز کرتی ہے تو دونوں ملکوں کے تعلقات دوبارہ تناؤ کا شکار ہوں گے۔