"> اداریہ Archives - Page 16 of 20 - HTN Urdu

Category: اداریہ

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

پاک ایشیا یوتھ فورم کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان میں معدنی معاہدوں کی بدعنوانی اور طالبان دھڑوں کی کشمکش نے بدخشاں اور تخار میں بدامنی بڑھا دی ہے۔

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ایکس کے فیچر کے ذریعے انکشاف ہوا کہ متعدد وہ اکاؤنٹس جو بلوچ شناخت کے ساتھ پاکستان مخالف پروپیگنڈا چلا رہے تھے، دراصل بھارت میں موجود افراد آپریٹ کر رہے تھے۔

انیس سو انچاس سے 2025 تک پھیلا یہ پورا منظرنامہ واضح کرتا ہے کہ بھارت میں زمین کی ملکیت کا ڈھانچہ مذہبی لحاظ سے انتہائی غیرمتوازن ہے۔

بھارت کی سفارتی پیش قدمی، پاکستان کی سرخ لکیریں، اور افغانستان کا متبادل راستوں کی تلاش کرنا؛ یہ سب خطے کے اس نازک لمحے کو تشکیل دے رہے ہیں جس پر جغرافیہ اور عسکری اقدمات کے اثرات گہرے ہیں۔

دوسری جانب ایران، جس نے چابہار میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے، افغانستان کی مغربی گزرگاہ کا ’’قدرتی شراکت دار‘‘ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عزیزی کا دہلی کا دورہ تہران کے لیے ایک نہایت حساس اشارہ بن سکتا ہے۔

جب تک جماعتی وفاداریاں، ذاتی مفادات اور مرکزی سیاست کا اثر پارلیمانی اصولوں سے بالاتر رہتا ہے، آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کا امکان دھندلا ہی رہے گا۔

یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات آنے والے برسوں میں پاکستان کی پوزیشن کا تعین کریں گےاور شاید پورے خطے کی سیاست پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

افغانستان کے سب سے بڑے بزنس ٹائیکون خان جان الکوزئی نے کہا کہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ تجارت معطل ہونے کا مطلب ہے کہ افغانستان کی تجارت بڑی حد تک اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہوگی اور تاجروں کو معاشی قتل عام ہوگا۔

صرف 2025 میں اب تک تقریباً 4300 سے زائد حملے کیے گئے جن میں 1000 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ ان میں زیادہ تر حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ تاہم اب اسلام آباد جیسے محفوظ شہر میں دھماکے نے خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی ہے۔

اس تمام عرصے میں پاکستان نے فلسطینیوں کو تعلیم، روزگار اور عزت کے ساتھ رہنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت نے نہ تو اس انسانی اور اسلامی جذبے کی کھلے عام تعریف کی اور نہ ہی اس طرزِ عمل کو اپنایا۔