اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔
افغانستان کے سب سے بڑے بزنس ٹائیکون خان جان الکوزئی نے کہا کہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ تجارت معطل ہونے کا مطلب ہے کہ افغانستان کی تجارت بڑی حد تک اپنے خاتمے کی جانب گامزن ہوگی اور تاجروں کو معاشی قتل عام ہوگا۔
صرف 2025 میں اب تک تقریباً 4300 سے زائد حملے کیے گئے جن میں 1000 سے زائد افراد شہید ہوئے۔ ان میں زیادہ تر حملے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئے۔ تاہم اب اسلام آباد جیسے محفوظ شہر میں دھماکے نے خطرے کی نئی گھنٹی بجا دی ہے۔
اس تمام عرصے میں پاکستان نے فلسطینیوں کو تعلیم، روزگار اور عزت کے ساتھ رہنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت نے نہ تو اس انسانی اور اسلامی جذبے کی کھلے عام تعریف کی اور نہ ہی اس طرزِ عمل کو اپنایا۔
ٹرمپ اور شی جن پنگ کی ملاقات ظاہر کرتی ہے کہ اقتصادی باہمی انحصار اب امن کی ضمانت نہیں رہا۔ یہ ایک نئے دور کی نشاندہی ہے جہاں تجارت، ٹیکنالوجی اور ڈیٹا طاقت کے ہتھیار بن چکے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق، مقبوضہ کشمیر دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں فی کس فوجی اہلکاروں کی سب سے زیادہ تعیناتی ہے۔
ریاست مخالف سوچ کے مقابلے میں خاموشی اختیار کرنا دراصل خود ریاست کی کمزوری ہے۔ بلوچستان کے امن اور پاکستان کے استحکام کے لیے قانونی اور فکری دونوں محاذوں پر ایک مضبوط جواب ناگزیر ہے۔
برسوں سے پھیلائے گئے افغانستان کے "ناقابلِ شکست" ہونے کے تاثر کو اب زمینی حقائق نے بے نقاب کر دیا ہے۔ طاقت کے توازن کا محور اب محض نعروں میں نہیں بلکہ عملی فیصلوں میں منتقل ہو چکا ہے۔
اگر افغان حکومت نے مخلصانہ رویہ اختیار نہ کیا تو جنوبی ایشیا ایک نئی غیر اعلانیہ جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتا ہے اور پاکستان اس بار دفاع نہیں، فیصلہ کرنے کے موڈ میں ہے۔