Category: انڈیا

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

بھارت کے چیف جسٹس کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہنے پر جنریشن زی نے انسٹاگرام پر تحریک شروع کر کے صرف چار دن میں مودی کی جماعت بی جے پی کو فالوورز میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کا حالیہ دورۂ یورپ سنجیدہ فکری جوابات سے گریز، سیلفیز اور غیر سنجیدہ اندازِ گفتگو کی وجہ سے شدید تنقید کا شکار ہو گیا ہے، جس نے بھارتی جمہوریت کے دعوؤں کو مزید سوالات کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔

بنگلہ دیش نے اپنے اعلیٰ سول افسران کی تربیت کا پروگرام بھارت سے پاکستان منتقل کر دیا ہے، جس کے تحت 12 بیوروکریٹس لاہور میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

صحافی نے انکشاف کیا کہ وہ پورا دن اپنے اکاؤنٹ تک رسائی کے لیے جدوجہد کرتی رہیں، جس کے بعد انہیں پلیٹ فارم کی جانب سے معطلی کا نوٹس موصول ہوا۔

مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام کے بعد چکن نیک کے اہم ترین تزویراتی علاقے میں 120 ایکڑ اراضی مرکز کے حوالے کر دی گئی، جس کا بنیادی فائدہ مبینہ طور پر اڈانی گروپ کو پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے کوئی ٹھوس جواب جمع نہیں کروایا۔

مودی کے دورۂ ناروے پر کشمیری و سکھ تنظیموں نے نارویجن پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بھارت میں مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر شدید ردعمل دیا۔

وزیرِ دفاع کا کہنا تھا کہ بھارت ماضی میں ملنے والی مار کو ابھی تک سہلا رہا ہے اور فروری 2019 کا سرپرائز ابھی تک نئی دہلی کو یاد ہونا چاہیے۔

اگنی میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں سے متعلق پوچھے گئے ہر سوال پر ان کا روایتی فلسفیانہ اور مبہم جواب سامنے آیا۔ میزائل کی رینج، اس کی درجہ بندی اور آپریشنل پیرامیٹرز کے بارے میں ٹھوس سائنسی حقائق بتانے کے بجائے وہ مسلسل اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دے کر چھپاتی رہیں، جو کہ پروگرام کی اندرونی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔

کسی بھی "جغرافیائی تباہی" کا نتیجہ یکطرفہ نہیں بلکہ "مکمل اور دوطرفہ" ہوگا، جو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کے سنگین خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔ ترجمان نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی بھارت کے اس قسم کے جنگی حربوں اور جارحانہ بیانیے نے جنوبی ایشیا کو بارہا بحرانوں اور عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔