ملا عمر کے قریبی ساتھی اور سینئر طالبان رہنما ملا معتصم آغاجان کی گرفتاری نے طالبان قیادت میں اندرونی اختلافات کو نمایاں کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق انہیں پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے اور امن کوششوں کے لیے رابطے بڑھانے کے الزام میں قندھار میں حراست میں لیا گیا۔
بین الاقوامی اسلامک یونیورسٹی کے صدر ڈاکٹر احمد سعد الاحمد کا فیصل مسجد میں اہم خطاب؛ خطے میں امن کے قیام اور فتنوں کے خاتمے کے لیے وزیراعظم اور عاصم منیر کی کوششوں کو زبردست خراجِ تحسین۔
امریکی جریدے 'واشنگٹن ٹائمز' نے آپریشن غضب للحق کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف انتہائی درست اور جامع حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
بلوچستان حکومت نے واضح کیا ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کا یہ ماڈل صرف عسکری کارروائی تک محدود نہیں بلکہ قانون، ادارہ جاتی اصلاحات، ڈیجیٹل شفافیت اور انتہا پسندی کے تدارک پر مبنی ایک جامع حکمت عملی ہے، جو دیرپا امن اور استحکام کی بنیاد بنے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن "ردّالفتنہ-1" کی کامیاب تکمیل پر 216 بھارتی حمایت یافتہ دہشت گرد ہلاک ہوئے، جبکہ 36 معصوم شہری اور 22 بہادر جوان شہید ہوئے
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔
جنوبی وزیرستان کے زمچن میں ایف سی (ساؤتھ) کے کمانڈر کی زیر صدارت قبائلی رہنماؤں کے ساتھ جرگہ منعقد ہوا، جس میں خطے کی سلامتی، عوامی مسائل اور باہمی تعاون پر بات کی گئی
بلوچستان میں ریاستی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کُن مہم تاریخی کامیابیوں کی حامل رہی ہے۔ حالیہ آپریشنز کے دوران 177 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو صوبے کے مختلف علاقوں میں انجام پائے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات میں صحت، تعلیم، ہنر اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور ’’احساس ماں‘‘ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے نام نہاد آپریشن ہیروف 2.0 کے تحت مجید بریگیڈ سے وابستہ پہلی خاتون خودکش حملہ آور حوا بلوچ کی تصویر جاری کر دی، جبکہ ایک اور خاتون عاصفہ مینگل کے حوالے سے بھی دعویٰ سامنے آیا ہے
حکومتِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔