مسلم لیگ ن کے صدر میاں نواز شریف نے دونوں ممالک کے مابین گہرے تاریخی روابط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ازبکستان کے تعلقات انتہائی مضبوط اور پائیدار بنیادوں پر قائم ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل (ر) عامر ریاض نے واضح کیا کہ یہ تاثر محض پروپیگنڈا ہے کہ ریکو ڈیک جیسے منصوبے بلوچستان کے وسائل پر قبضے یا استحصال کے لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریکو ڈیک منصوبے میں بلوچستان حکومت کا 25 فیصد حصہ ہے اور صوبائی حکومت کو اس کے آپریشنز اور مینجمنٹ پر کنٹرول حاصل ہے۔
جنوبی وزیرستان کے زمچن میں ایف سی (ساؤتھ) کے کمانڈر کی زیر صدارت قبائلی رہنماؤں کے ساتھ جرگہ منعقد ہوا، جس میں خطے کی سلامتی، عوامی مسائل اور باہمی تعاون پر بات کی گئی
بلوچستان میں ریاستی اداروں کی دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کُن مہم تاریخی کامیابیوں کی حامل رہی ہے۔ حالیہ آپریشنز کے دوران 177 دہشت گرد ہلاک کیے گئے، جو صوبے کے مختلف علاقوں میں انجام پائے
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے عالمی بینک کے صدر اجے بنگا سے ملاقات میں صحت، تعلیم، ہنر اور معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور ’’احساس ماں‘‘ پروگرام کے آغاز کا اعلان کیا
کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے نام نہاد آپریشن ہیروف 2.0 کے تحت مجید بریگیڈ سے وابستہ پہلی خاتون خودکش حملہ آور حوا بلوچ کی تصویر جاری کر دی، جبکہ ایک اور خاتون عاصفہ مینگل کے حوالے سے بھی دعویٰ سامنے آیا ہے
حکومتِ بلوچستان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کے پیشِ نظر کیے جا رہے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے اپنے غیر ملکی آقاؤں کے ایما پر بلوچستان میں ترقیاتی عمل اور عوامی زندگی کو متاثر کرنے کے لیے نہایت بزدلانہ حملے کیے۔ ضلع گوادر اور خاران میں دہشت گردوں نے جان بوجھ کر 18 معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا، جن میں خواتین، بچے، بزرگ اور محنت کش مزدور شامل تھے، جو جامِ شہادت نوش کر گئے۔
سیکیورٹی حکام نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خیبرپختونخوا، بشمول وادیٔ تیراہ، میں جاری کارروائیاں بلا امتیاز نہیں بلکہ مکمل طور پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز ہیں، جن کا ہدف مسلح شدت پسندوں کے ٹھکانے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ شدت پسند نیٹ ورکس سرحد پار حملوں اور مسلسل عدم تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔
پارٹی کے کئی رہنما اس لیک پر خاموش ہیں، لیکن مبصرین کا کہنا ہے کہ اس آڈیو نے نہ صرف پارٹی کی یکجہتی پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ آئندہ سیاسی فیصلوں اور اندرونی انتخابات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔