Category: خیبر اور بلوچستان

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

امریکہ نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر پاکستان کے فضائی حملوں کو شہریوں اور سرزمین کے دفاع کا جائز حق قرار دے دیا۔

باجوڑ میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 3 خوارج کو ہلاک کر دیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔

کوئٹہ کی بلیلی چیک پوسٹ پر ایف سی اہلکاروں سے تصادم، پتھراؤ اور قانون شکنی کے بعد پی ٹی آئی کے مقامی رہنماء حاجی گل خان نے اپنے عمل پر ندامت کا اظہار کر دیا۔

خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ الخوارج اور نور ولی محسود کے خلاف وال چاکنگ سامنے آئی ہے، جہاں عوام نے دہشت گردی، انتہا پسندی اور علما کے قتل کے خلاف شدید نفرت کا اظہار کیا ہے۔

ٹانک کے گاؤں چیسن کچ میں نامعلوم افراد نے گورنمنٹ مڈل سکول اور بنیادی ہیلتھ مرکز کو بارودی مواد سے اڑا دیا۔

کوئٹہ میں پشین اسٹاپ اور چمن پھاٹک کے قریب عید منانے گھر جانے والے نہتے مسافروں کی شٹل ٹرین پر بھارتی پراکسی فتنہ الہندوستان کا بزدلانہ حملہ، عوامی املاک اور عمارتوں کو شدید نقصان۔

پاکستان کا سول سروس نظام صوبائی عصبیت سے بالاتر ہو کر میرٹ کی پاسداری کی اعلیٰ مثال بن گیا ہے، جہاں ملک کے چار اہم ترین انتظامی حصوں میں خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے نامور افسران بطور چیف سیکریٹریز خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

بنوں کے علاقے میریان میں پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام بنا دیا، فائرنگ کے تبادلے میں 8 دہشت گرد ہلاک جبکہ ایک پولیس اہلکار شہید ہوا۔

باجوڑ کی تحصیل وڈاماموند میں دہشت گرد حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرچ آپریشن شروع کیا ہے، جہاں جھڑپ میں متعدد جنگجوؤں کی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں۔

شمالی وزیرستان کے سپن وام میں سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ الخوارج کا اہم سرغنہ عمر عرف ثاقب اپنے 3 ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگیا۔

اس اہم بیٹھک میں وفاقی وزراء علی پرویز ملک اور رانا ثناء اللہ، گورنر خیبر پختونخوا اور صوبائی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف ڈاکٹر عباد نے شرکت کی۔

عوام اب ان کھوکھلے نعروں، ٹک ٹاک کلپس اور سستی شہرت کے ڈراموں سے مکمل طور پر لاچار اور بیزار ہو چکے ہیں۔ خیبر پختونخوا کو اس وقت کیمروں اور مسخروں کی نہیں بلکہ سنجیدہ منتظمین اور ترقی کی ضرورت ہے۔