Category: مشرق وسطیٰ

کوہاٹ پولیس لائنز حملے کے بعد سکیورٹی فورسز کا کلیئرنس آپریشن مکمل، جوابی کارروائی میں 8 دہشت گرد ہلاک ہوگئے، شہادتوں کی تعداد 22 ہوگئی۔

جنگِ ستمبر 1965 کے 19ویں روز سیالکوٹ اور جموں سیکٹر میں 40 بھارتی ٹینک تباہ اور 100 سے زائد بھارتی فوجی جنگی قیدی بنائے گئے۔

شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟

پاکستان نے بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں پر حوثی حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اشتعال انگیز کارروائیاں فوری بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بلوچستان کے پنجگور اور چاغی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے دوران 11 دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود برآمد ہوا۔

سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں لبنان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری جنگ بندی اور اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کیا۔

امریکی مؤرخ اسٹیفن کوٹکن کا ایران۔ پاکستان جوہری دعویٰ من گھڑت اور تضادات کا شکار ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے فعال سفارتی اور معتبر مصالحتی کردار نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی عالمی جنگ سے محفوظ رکھا ہے۔

سفارتی ماہرین نے بھارت کے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان مخالف بیانیے کو خارجہ پالیسی کے غیر متوازن رجحان کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے ایران کشیدگی کو اسرائیل نارملائزیشن سے جوڑنے کی کوششوں کے جواب میں پاکستان نے بیرونی دباؤ مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک نے مقبوضہ یروشلم میں صومالی لینڈ کی جانب سے نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کے منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے آج ہی معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے، جس کے تحت ساٹھ روزہ جنگ بندی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی متوقع ہے۔

ایران کشیدگی کو ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل نواز ایجنڈے سے جوڑنے کی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی کوششیں پاکستان کے اصولی مؤقف کے سامنے ناکام ہو گئی ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران میں اعلیٰ سطحی عسکری سفارت کاری اور اسلام آباد مذاکرات کے مثبت تسلسل کے نتیجے میں عالمی ڈیڈ لاک ٹوٹ گیا ہے اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

امریکہ ایران ثالثی کے سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی تہران میں موجود ہیں، جہاں ایرانی صدر اور وزیرِ خارجہ سے امن عمل پر اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

محسن نقوی نے اس بار ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے علاوہ ایران کے وزیرِ داخلہ اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔