Category: مشرق وسطیٰ

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا بدر ایم او یو دفاعی صنعت، ٹیکنالوجی اور مشترکہ پیداوار میں تعاون بڑھانے کی اہم پیش رفت ہے۔

سعودی اتحاد نے مکہ ریجن کی جانب آنے والے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے، پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔

چین نے ڈی ایف 61 بین البراعظمی میزائل کو راکٹ فورس میں شامل کرلیا، شمالی کوریا کے نئے تجربات اور جاپان کی جوہری پالیسی بھی عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

مظفرگڑھ اور فیصل آباد کے افسوسناک واقعات نے رشتوں کے خلوص اور تحفظ کے دعوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جنہیں ہم اپنا محافظ اور ہمدرد سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں مددگار ہیں یا مکار؟

اسرائیل میں حکومت سازی کے عمل میں یشار پارٹی کے سربراہ گاڈی آئزنکوٹ کو کنیسٹ کے 67 ارکان کی حمایت حاصل ہو گئی ہے، جس سے بنیامین نیتن یاہو کی دوبارہ اقتدار میں واپسی کے امکانات مزید کم ہو گئے ہیں۔

محسن رضائی نے پیوٹن سے ملاقات میں ایرانی قیادت کا پیغام پہنچانے کا دعویٰ کیا، تہران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے سات شرائط پوری کرنے پر اصرار کردیا۔

امریکی مؤرخ اسٹیفن کوٹکن کا ایران۔ پاکستان جوہری دعویٰ من گھڑت اور تضادات کا شکار ہے؛ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے فعال سفارتی اور معتبر مصالحتی کردار نے مشرقِ وسطیٰ کو ایک بڑی عالمی جنگ سے محفوظ رکھا ہے۔

سفارتی ماہرین نے بھارت کے بین الاقوامی فورمز پر پاکستان مخالف بیانیے کو خارجہ پالیسی کے غیر متوازن رجحان کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے ایران کشیدگی کو اسرائیل نارملائزیشن سے جوڑنے کی کوششوں کے جواب میں پاکستان نے بیرونی دباؤ مسترد کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین پر اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کیا ہے۔

پاکستان سمیت مسلم اکثریتی ممالک نے مقبوضہ یروشلم میں صومالی لینڈ کی جانب سے نام نہاد سفارت خانہ کھولنے کے منصوبے کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے آج ہی معاہدہ طے پانے کا قوی امکان ظاہر کیا ہے، جس کے تحت ساٹھ روزہ جنگ بندی اور اقتصادی پابندیوں میں نرمی متوقع ہے۔

ایران کشیدگی کو ابراہیم معاہدوں کے تحت اسرائیل نواز ایجنڈے سے جوڑنے کی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی کوششیں پاکستان کے اصولی مؤقف کے سامنے ناکام ہو گئی ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی ایران میں اعلیٰ سطحی عسکری سفارت کاری اور اسلام آباد مذاکرات کے مثبت تسلسل کے نتیجے میں عالمی ڈیڈ لاک ٹوٹ گیا ہے اور خطے پر منڈلاتے جنگ کے بادل چھٹ گئے ہیں۔

امریکہ ایران ثالثی کے سلسلے میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی تہران میں موجود ہیں، جہاں ایرانی صدر اور وزیرِ خارجہ سے امن عمل پر اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

محسن نقوی نے اس بار ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے علاوہ ایران کے وزیرِ داخلہ اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔

بیجنگ کے گریٹ ہال آف پیپل میں شی جن پنگ اور ولادیمیر پیوٹن کے درمیان اہم ملاقات ہوئی، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی، عالمی گورننس اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔