یورو میڈ مانیٹر اور اقوام متحدہ کی رپورٹس میں اسرائیلی حراستی مراکز کے اندر فلسطینی قیدیوں پر سیکیورٹی کتوں کے ذریعے جنسی زیادتی اور منظم تشدد کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
قومی سلامتی جیسے حساس معاملے کو سیاسی جلسوں میں جگت بازی کا نشانہ بنانا اور مولانا فضل الرحمن کی طرف سے عارضی کرفیو کا تمسخر اڑانا سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی توہین ہے، جس سے ملک میں بداعتمادی پھیلتی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدہ 10 اکتوبر 2025 کو نافذ ہوا تھا، جو غزہ کے لیے پیش کیے گئے امن منصوبے کے پہلے مرحلے کا حصہ تھا۔ معاہدے کے تحت قیدیوں کا تبادلہ بھی کیا گیا، جبکہ دوسرے مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنے اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے قیام کی شق شامل ہے۔ تاہم حالیہ حملوں نے معاہدے کی ساکھ اور امن کوششوں پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس غزہ میں کسی بھی گروہ کو غیر مسلح کرنے یا عسکری کارروائی کرنے کا کوئی قانونی، سفارتی یا بین الاقوامی مینڈیٹ موجود نہیں۔ اس حوالے سے بارہا سرکاری سطح پر وضاحت کی جا چکی ہے، اس کے باوجود ایسے بیانات کا دہرانا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
پاکستان نے سات مسلم ممالک کے ساتھ بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی تاکہ غزہ امن منصوبے پر عملدرآمد اور فلسطینی عوام کو فوری انسانی امداد فراہم کی جا سکے
ایرانی صدر سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے کہا کہ ملک کی فضائی حدود اور سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہوں گی
حماس کے مرکزی رہنماء نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ذاتی ثالثی کو اسرائیل۔ حماس جنگ کے خاتمے میں مؤثر قرار دیتے ہوئے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ کی مداخلت اور اسرائیل پر دباؤ ڈالنے سے قتل و غارت ختم ہوئی
وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیووس میں امریکی صدر ٹرمپ کے زیرِ اہتمام تاریخی "بورڈ آف پیس" معاہدے پر دستخط کر دیے۔ 18 دیگر ممالک کے ساتھ اس معاہدے کا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت غزہ میں مستقل جنگ بندی، تعمیر نو اور فلسطینی حقوق کا تحفظ ہے
دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھ درد کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پلیٹ فارم سے امن کے قیام کے لیے عملی پیش رفت کی امید ہے۔
رپورٹ کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے غزہ سے ایران تک بحرانوں میں ثالثی، جنگ بندی اور خطے میں سیاسی توازن قائم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا
صدر بشار الاسد کی زیرِ صدارت کابینہ اجلاس میں شامی ڈیموکریٹک فورسز کو ریاستی اداروں میں ضم کرنے اور ملک بھر میں جامع جنگ بندی معاہدے کی حتمی منظوری دے دی گئی