Category: اہم ترین

امریکی تھنک ٹینک کے مطابق مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کو یمن میں براہِ راست فوجی مداخلت کا پابند نہیں کرتا۔

عطا تارڑ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ اور دھرنے کا چیلنج دے دیا۔ وفاقی وزیر نے تحریک انصاف پر مارچ سے پیچھے ہٹنے کا الزام عائد کیا۔

افغان طالبان کے دعوؤں کے برعکس عالمی رپورٹس نے افغانستان میں آئس کی وسیع پیمانے پر پیداوار اور بین الاقوامی اسمگلنگ کی تصدیق کر دی ہے۔

جب طالبہ کا خواب صرف اس لیے ادھورا رہ جائے کہ یونیورسٹی 400 کلومیٹر دور ہو۔۔۔ یہی کروڑوں پاکستانی طلبہ کا سچ ہے، اور اس کا حل نئے انتظامی یونٹس ہیں۔

تحریک انصاف نے عوامی حمایت کے فقدان اور حکومتی دباؤ کے سبب 27 ستمبر کا لانگ مارچ 5 اکتوبر تک مؤخر کر دیا ہے۔

حکام نے پی ٹی آئی کو کالعدم تنظیموں کی معاون اور انتشار پسند جماعت قرار دیتے ہوئے ریاست مخالف اقدامات پر سخت قانونی کارروائی کا اعلان کر دیا ہے۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے روسی سفیر البرٹ پی خوروف کی ملاقات، دوطرفہتعلقات، معاشی و دفاعی تعاون اور علاقائی صورتحال پر گفتگو۔

پولیس اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کی وائرل ویڈیو نے وزیراعلیٰ کے پی کی اہلیت اور عدم تدبر پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بنوں کے علاقے ڈومیل میں سکیورٹی فورسز اور پولیس کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں 90 لاکھ روپے کے انعامی کمانڈر ایوب ایوبی سمیت فتنۃ الخوارج کے 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے۔

بنوں کے علاقے مالی خیل میں سکیورٹی فورسز کے قافلے کو نشانہ بنانے کی خودکش حملے کی کوشش ناکام، مشتبہ گاڑی وقت سے پہلے ہی دھماکے سے تباہ ہوگئی۔

بلوچستان میں آپریشن رد الفتنہ 3 کے تحت انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں میں 9 دہشت گرد ہلاک، اسلحہ برآمد۔

دیر جرگے میں آئی جی ایف سی نارتھ راؤ عمران سرتاج نے مشران کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر خطاب کیا، عوام اور فورسز کے اعتماد کی مثال قرار۔

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترک ہم منصب خاقان فیدان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں علاقائی صورت حال اور باہمی تعاون پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا ہے کہ طالبان حکومت خطے کو غیر مستحکم کرنے والی پراکسی بن چکی ہے اور کابل کو دہشت گردوں کی سرپرستی بند کرنا ہوگی۔

بلوچستان کے کلی زائیک میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں فتنہ الہندوستان کے 2 دہشتگرد ہلاک، 3 زخمی، اسلحہ اور آئی ای ڈی سامان برآمد۔

بدخشاں میں کئی دنوں کی شدید مزاحمت کے بعد جمعہ خان فتح اور ان کے مسلح ساتھیوں نے افغان سکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔