تاریخ نے ہمیشہ ایک ہی فیصلہ سنایا، ظلم کی سلطنتیں مٹ گئیں، مگر حق کی آواز باقی رہی۔ بھارت میں جو اس وقت ہو رہا ہے، اگرچہ اس کا نتیجہ فی الفور ظلم سے نجات نہ بھی ہو، لیکن یہ اس بات کی بنیاد ہے کہ ظلم مٹنے والا ہے۔
بلوچستان میں دہشت گردی کا دائرہ اب صرف سکیورٹی فورسز تک محدود نہیں رہا، ڈاکٹرز، صحافیوں اور وکلا کے بعد اب ججز بھی براہِ راست حملوں کی زد میں آ گئے ہیں۔ مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج زخمی ہو گئے۔
بیس جولائی کے پارلیمنٹ مارچ پر شدید پولیس تشدد کے بعد مساجد کا ہندو مظاہرین کے لیے کھلنا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت کی نئی نسل نے ابو الکام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے فلسفے کو اپنا کر ظالمانہ نظام کو رد کر دیا ہے۔
حماس نے خلیل الحیہ کو نیا سربراہ منتخب کیا، وہ شہید یحییٰ السنوار کی جگہ ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ہنیہ، سنوار کے بعد اب یہ علم خلیل الحیہ کے ہاتھ میں، شہدا کی جماعت کا سفر جاری۔
انڈیا کا مشن چاند اب ایک نئے امتحان سے دوچار ہے کیونکہ بھارتی خلائی ادارہ آئی ایس آر او کے سائنسدان چھوڑ رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 100 سے 120 سائنسدان آئی ایس آر او چھوڑ چکے ہیں، جس کے بعد حکومت نے استعفوں کی منظوری کا طریقہ مزید سخت کر دیا ہے۔
امریکہ ایران تنازع میں جہاں دونوں فریق ایک دوسرے پر معاہدہ سبوتاژ کرنے کا الزام لگا رہے ہیں، وہیں اصل قیمت خطے کے وہ ممالک چکا رہے ہیں جن کا اس جنگ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں۔
بھارت میں مودی حکومت کے خلاف طلبہ، اپوزیشن اور سول سوسائٹی کی جانب سے مختلف مسائل پر احتجاجی سرگرمیوں میں اضافہ، تاہم یہ ایک متحدہ قومی تحریک کی شکل اختیار نہیں کر سکیں۔
کسی بھی جمہوری معاشرے میں احتجاج کا حق بنیادی ہے، لیکن اس کی ایک قیمت ہوتی ہے جو ہمیشہ معاشرے کا سب سے کمزور طبقہ ادا کرتا ہے۔ شٹر ڈاؤن اور ہڑتالوں سے کسی وزیر یا اشرافیہ کا نقصان نہیں ہوتا، بلکہ اس کی زد میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والا مزدور، چھوٹا تاجر، تعلیمی اداروں سے دور ہوتا طالب علم اور ہسپتال پہنچنے کی کوشش میں بے بس مریض آتا ہے۔
دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے جس ملک کی بیوروکریسی کے 22 ہزار افسران کے پاس دوہری شہریت ہو کیا اس ملک کی معیشت درست ہو سکتی ہے؟ جس ملک کے 22 ہزار فیصلہ ساز اس انتظار میں بیٹھے ہوں کہ ریٹائر ہوں اور اپنے دوسرے "وطن" منتقل ہو جائیں ، جنہیں پاکستان میں رہنا تک گوارا نہ ہو ، ان کے فیصلوں سے پاکستان کی معیشت کیسے ٹھیک ہو سکتی ہے؟