Category: تجزیات

امریکا نے داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری اور اہم مالیاتی عہدیدار عبید اللہ سے متعلق معلومات پر ایک کروڑ ڈالر تک انعام کا اعلان کر دیا۔

باجوڑ میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے جھانگیر آباد سے شرپسند عناصر کے چھپائے گئے 14 مارٹر گولے برآمد کرلیے۔

ایران امریکہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے پاکستان اور قطر کی سفارتی کوششیں تیز، ایران و عمان کا آبنائے ہرمز میں بحری راہداری پر اتفاق، روسی میڈیا کا نئی جنگ بندی کا دعویٰ سامنے آگیا۔

دالبندین سیکٹر میں سکیورٹی فورسز نے پاک افغان سرحد عبور کرنے کی کوشش کرنے والے 3 افغان شہریوں کو گرفتار کرلیا، گرفتار افراد کو گزشتہ روز رہا کیا گیا تھا۔

سوات میں باپ بیٹی کے قتل پر سوالات اٹھ گئے، مقتول لڑکی نے دو ہفتے قبل پشاور پریس کلب میں تحفظ کی اپیل کی تھی۔

پاکستان نے شام پر امریکی پابندیاں ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے شامی معیشت اور علاقائی استحکام کے لیے مثبت قرار دیا۔

تخار صوبے میں یہ تنازعہ جمعہ کے روز اس وقت عروج پر پہنچا جب ضلع چاہ آب کے سمتی علاقے میں مقامی رہائشیوں اور طالبان کے پشتون دھڑے کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں۔ طالبان میں موجود ہمارے ذرائع کے مطابق، ان جھڑپوں میں کم از کم 4 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوئے۔ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب نماز جمعہ کے بعد مقامی افراد، جن میں طالبان کے نان پشتون مقامی اہلکار بھی شامل تھے، سونے کی ان کانوں پر قبضے کے خلاف احتجاج کرنے لگے۔ اس موقع پر طالبان کے پشتون گروپ، جو قبضے کے لیے آیا ہوا تھا، نے احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کردی۔

ان تین ملکوں کی یہ چار عورتیں دراصل ایک ہی بے وزن کہانی کے کردار ہیں۔ طاقت کی، قربانی کی، وراثت کی اور اس خطے کی سیاست کی جہاں عورت کو اقتدار تو مل سکتا ہے، مگر سکون اور قبولیت اب بھی ایک خواب ہے۔

دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسرائیل نے ایک ترجمان کو خاموش کرنے کے لیے بیس سال محنت کی، لیکن اس کی شہادت نے ہزاروں نئے 'ابو عبیدہ' کو جنم دے دیا ہے۔ یہ وہ جنگ ہے جہاں ہر قطرہ خون ایک نئی داستان کا عنوان بنتا ہے، اور ہر شہادت فتح کے سفر کو ایک قدم مزید قریب کر دیتی ہے۔

طالبان حکومت عوامی رضامندی کو اپنی قانونی حیثیت کے لیے ضروری نہیں سمجھتی۔ حکمرانی غیر شفاف، کمزور ابلاغ پر مبنی اور مکمل طور پر بالا سے نیچے کی سمت ہے، جس میں عوامی جوابدہی کو خاطر میں نہیں لایا جاتا۔ اکتوبر 2025 میں بغیر کسی وضاحت کے ملک گیر انٹرنیٹ بندش کا اچانک حکم، جو بعد میں وزیرا عظم ملا حسن کے حکم پر جزوی طور پر واپس لیا گیا، اور اس جرم میں ملا حسن کو ہیبت اللہ کی ناراضی بھگتنا پڑی ، فیصلہ سازی کی من مانی نوعیت کی واضح مثال ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اسلاموفوبیا ایک ایسی عینک ہے جو دنیا کو خوف کے رنگ میں دیکھتی ہے، مگر احمد الاحمد جیسے لوگ اس عینک کو توڑ دیتے ہیں۔ وہ دنیا کو یاد دلاتے ہیں کہ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو نفرت کے مقابل کھڑا ہو، اور ضرورت پڑے تو دوسروں کے لیے خود کو ڈھال بنا لے۔

مقامی سطح پر موجو سورسز کا دعویٰ ہے کہ تاجک بارڈر پر ٹی ٹی ٹی کے مراکز میں ٹی ٹی پی کے دہشت گرد بھی موجود ہیں اور انہیں اضلاع میں ٹی ٹی ٹی کے ساتھ ساتھ ای ٹی آئی ایم کے دہشت گردوں کو بھی افغان رجیم کی سرپرستی میں رکھا گیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر افغان طالبان پوری دنیا میں خود کو داعش مخالف قرار دیتے ہیں لیکن بدخشاں کے ان سرحدی اضلاع میں داعش کھلے بندوں موجود ہے اور اس کے مراکز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی بلکہ انہیں سہولیتیں دی جا رہی ہیں۔

درحقیقت قائداعظم نے یہ کبھی نہیں کہا کہ پاکستان ایک سیکولر جمہوری ملک ہوگا بلکہ اس کے برعکس انہوں نے بارہا یہ کہا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوری ملک ہوگا۔ یہ بات انہوں نے سنتالیس میں پاکستان بننے سے چند ماہ بھی کہی اور اس سے کئی سال پہلے بھی بارہا یہ کہتے رہے۔ حتیٰ کہ گیارہ اگست سنتالیس والی تقریر کے چند دن بعد سٹیٹ بنک کی افتتاحی تقریب میں بھی قائداعظم نے اپنی تقریر میں یہی باتیں کہیں۔

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جائوں گی ۔۔۔۔ وہ جھوٹ بولے گا اور لاجواب کر دے گا

سڈنی کا واقعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ اصل میں بندوقوں کی نہیں، بیانیوں کی جنگ ہے۔ اگر عالمی میڈیا مسلسل مذہب اور دہشتگردی کو ایک ساتھ جوڑتا رہے گا، اگر ریاستوں کو بغیر ثبوت کے مجرم بنایا جاتا رہے گا، تو یہ آگ صرف مشرق کو نہیں جلائے گی، ایک دن مغرب بھی اس کی لپیٹ میں آئے گا۔

افغانستان میں اس وقت بیس سے زائد علاقائی اور عالمی شدت پسند تنظیموں کی موجودگی کی تصدیق اقوام متحدہ کر چکی ہے، جن میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، ترکستان اسلامی پارٹی اور اسلامی موومنٹ آف ازبکستان شامل ہیں۔