افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔
مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔
اگر طالبان واقعی پشتونولی کے وارث بننا چاہتے ہیں، تو انہیں سب سے پہلے اس روایت کے بنیادی اصول پر واپس آنا ہوگا: اپنے مہمان کو اسلحہ نہ پکڑائیں، اپنے پڑوسی پر حملہ نہ کروائیں، اور اس مقدس کوڈ کو سیاسی ہتھیار بنانے کے بجائے اسے امن، بھائی چارے اور انصاف کا ذریعہ بنائیں۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹس، کوارٹرلی جائزوں اور سگار کی رپورٹس مسلسل اس جانب اشارہ کر رہی ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق داعش خراسان، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے متعدد گروہ افغانستان میں نہ صرف مضبوط ہو رہے ہیں بلکہ اپنی سرگرمیوں کو خطے سے باہر تک پھیلا رہے ہیں۔
حضرت مولانا رومی کی وفات یا وصال کے موقع پر تو نیہ میں مسلمانوں، مسیحیوں، یہودیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ طور پر حاضر ہونا اور نماز جنازہ میں شرکت کرنا ان سے محبت اور احترام کا اظہار اور اس بات کی علامت ہے کہ وہ انسانیت کو متحد کرنے والے ایک عظیم شخصیت تھے۔
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 94 ہزار سے زائد قیمتی جانیں قربان کر چکا ہے۔ اس کے باوجود بعض جماعتیں پروپیگنڈے کے لیے استعمال ہو رہی ہیں
وہ طالبان جو دو دہائیوں تک بھارتی ریاست کو “ہندو سامراج”، “اسلام دشمن قوت” اور افغانستان میں “غیر شرعی اثر” کا ذریعہ قرار دیتے رہے، اب انہی کے دروازے پر تجارت، سرمایہ کاری، انسانی امداد اور سفارتی پہنچ کیلئے درخواستیں لے کر کھڑے ہیں۔
کابل کا بھارت کی طرف جھکاؤ اُن سیکیورٹی حقائق کو تبدیل نہیں کرسکتا جو پاکستان، ایران، چین، روس اور وسطی ایشیا کے ساتھ افغانستان کے تعلقات کی بنیاد ہیں۔
ستائیسویں ترمیم کے دوران دیکھا گیا کہ مقامی حکومتوں کی مالی خودمختاری اور پانچ سالہ انتخابی نظام میں خلل آیا، جس سے عوام کو اپنے مقامی مسائل پر اثرانداز ہونے کا حق محدود ہوا۔
پاکستان کو چاہیے کہ وہ ان مواقع کو سنجیدگی سے لے اور اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مل کر ایک جامع امن فریم ورک تیار کرے اور طالبان رجیم کو بھی یہ سمجھنا ہو گا کہ انکار کی پالیسی طویل مدتی نقصان کا باعث بنے گی۔
یہ تجزیہ اس بات کا جائزہ ہے کہ کس طرح طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں اور سرحد پار دہشت گردی کی مسلسل اجازت نے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف ایک اسٹریٹیجک دباؤ کے ٹول میں تبدیل کیا اور نتیجہ افغانستان کے اندر شدید معاشی بحران کی صورت میں نکلا۔