سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فورسز خوارج اور افغان طالبان کی پوسٹوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
تحریکِ طالبان پاکستان نے شمالی وزیرستان میں پشتون روایات کو پامال کرتے ہوئے خواتین کو ہراساں کرنے اور مقامی لوگوں کے مال و اسباب لوٹنے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس سے ان کا مذموم چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔
پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن کی تدفین اور نمازِ جنازہ افغان طالبان کی نگرانی میں ادا کی گئی، جو دونوں کے درمیان گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔
سکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند میں سرحد پر دراندازی کی کوشش کرنے والے خوارج کے گروہ کی نقل و حرکت کا بروقت پتہ لگایا اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
شہری علاقوں کو نشانہ بنانا انسانی جانوں کے تئیں طالبان کی بے حسی اور تزویراتی مقاصد کے لیے معصوموں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کی روش کو ظاہر کرتا ہے۔
آپریشن غضب للحق کے تحت پاک افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جارحیت کا بھرپور جواب؛ چمن سیکٹر میں متعدد چوکیاں اور عسکری گاڑیاں تباہ، دشمن پسپا۔
باڑہ میں دہشت گرد کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران شہری نقصان سامنے آیا؛ ماہرین کے مطابق خوارجی عناصر شہری آبادی کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کی فورسز کو بھاری جانی و مالی نقصان پہنچانے کے دعوے بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم آزاد ذرائع سے ہلاکتوں کی اصل تعداد کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی ہے۔
افغانستان میں مبینہ فضائی حملوں کے بعد چمن بارڈر پر پاک افغان افواج کے درمیان مسلح جھڑپیں شروع ہو گئیں، جس سے سرحدی علاقوں میں صورتحال کشیدہ ہو گئی ہے۔