Category: سکیورٹی

ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں اعلیٰ قیادت نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کا مقصد ثالثی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے لاپتہ قرار دیا گیا یوسف نامی شخص بھارتی پراکسی فتنۃ الہندوستان کا سرگرم دہشت گرد نکلا، جو سکیورٹی فورسز پر حملے کے دوران مارا گیا ہے۔

پاکستان نے افغان حکومت کے زیرِ اثر ابلاغی ادارے المرصاد کے خیبر اور پشاور میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں سے متعلق دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پنجگور کے علاقے جیرک میں سکیورٹی فورسز نے کاروائی کرتے ہوئے بھاری اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کر کے دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام بنا دی۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے کابل میں طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کے اہلکاروں کی گاڑی پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان نے ترک النسل اقوام کی حمایت اور ہرات مظاہروں سے اظہارِ یکجہتی کے الزام میں ازبک ثقافتی کارکن مسعود تیمور کو گرفتار کر لیا۔

ڈیرہ غازی خان کے سرحدی گاؤں جوتر میں سی ٹی ڈی کی کارروائی کے دوران 4 دہشت گرد مارے گئے۔ اسلحہ اور بارودی مواد برآمد

بنوں کے علاقے مزنگہ میں 30 سے 35 دہشت گردوں کے حملے کو پولیس اور مقامی عوام نے مشترکہ طور پر ناکام بنا دیا۔ شدید مقابلے کے بعد حملہ آور زخمی حالت میں فرار ہونے پر مجبور ہو گئے

سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ کابل کے گرین زون میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی محسود اور دیگر مطلوب عسکریت پسندوں کو پناہ دی جا رہی ہے، جس کے باعث غیر ملکی سفارت کار کابل چھوڑنے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق بھارتی اور اسرائیلی حلقوں سے منسلک نیٹ ورک اجمل سہیل کو ’’سیکیورٹی تجزیہ کار‘‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے تاکہ پاکستان مخالف بیانیہ تشکیل دیا جا سکے

شدت پسند تنظیمیں اکثر کم عمر لڑکوں کو مختلف طریقوں سے متاثر کر کے انہیں خودکش کارروائیوں کے لیے تیار کرتی ہیں۔

آپریشن غضب للحق میں 527 طالبان جنگجو ہلاک جبکہ 755 سے زائد زخمی، 237 چیک پوسٹیں تباہ

مقتدر سکیورٹی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا افغانستان کو فتح کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، بگرام ایئر بیس پر حالیہ کاروائی کا مقصد دہشت گردوں کے اس ٹھکانے کو تباہ کرنا تھا جو سرحد پار سے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہا تھا

آپریشن غضب للحق کے تازہ ترین معرکے میں افغان طالبان کو غیر معمولی جانی و مالی دھچکا لگا ہے؛ 4 مارچ کی شام تک 481 جنگجو ہلاک اور سینکڑوں چیک پوسٹیں تباہ ہو چکی ہیں

افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں