حکام کے مطابق یہ حملہ تاجکستان کے خطلون ریجن میں واقع "ایل ایل سی شاہین ایس ایم" کے ملازمین کے کیمپ پر ہوا، جو بارڈر گارڈ پوسٹ “استقلال” کے کنٹرول ایریا میں قائم ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گردوں کے خلاف بلوچستان میں سب سے زیادہ کارروائیاں ہوئیں جبکہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے لحاظ سے سب سے زیادہ متاثر رہا
برمل کا خطہ عرصۂ دراز سے جماعت الاحرار اور تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیوں کے باعث حساس سمجھا جاتا ہے۔ 2022 میں اسی علاقے میں جماعت الاحرار کا امیر عمر خالد خراسانی ایک بم دھماکے میں مارا گیا تھا۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ ایوب اسکول کے احاطے میں غیر ملکی شدت پسند بھی موجود تھے جن میں سے آٹھ مارے گئے، تاہم ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق فی الحال ممکن نہیں ہوسکی۔
مختلف آپریشنز میں مجموعی طور پر 17 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جن میں متعدد خطرناک اور بدنام زمانہ کمانڈرز بھی شامل ہیں، جبکہ کئی زخمی اور سہولت کار گرفتار کر لیے گئے۔
پشاور میں سی ٹی ڈی، ایلیٹ فورسز اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں ایک خودکش بمبار اور اس کے سہولت کار کو گرفتار کر لیا گیا۔ ملزمان کے قبضے سے دھماکا خیز مواد اور تین دستی بم برآمد ہوئے