Category: سکیورٹی

تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کالعدم تنظیموں کے جبری الحاق کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کا پاکستان میں شامل ہونا عوام اور مقامی حکمرانوں کا اپنا فیصلہ تھا۔

بلوچستان کے ضلع خاران کی وادی سراوان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کا ٹھکانہ کلیئر کروا لیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، تاہم ملک کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے والے کی آنکھیں نکال دیں گے۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں چین نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے پاک کشمیر رشتے کو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی آڑ میں اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی، غداری پر سخت سزا ہونی چاہیے۔

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

سیکیورٹی فورسز نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر کاروائی کرتے ہوئے 19 دہشت گرد کو ہلاک کیا جنہیں بھارتی پشت پناہی حاصل تھی

پاکستان اور ترکیہ سمیت کئی اتحادی ممالک کو میزائل فروخت ہونگے، امریکی وزارتِ دفاع

شہیک بلوچ جیسے کیسز نے بلوچستان میں ’’جبری گمشدگی‘‘ کے بیانیے کو متنازع بنا دیا ہے۔ ایسے متعدد شواہد سامنے آئے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض ’’لاپتہ‘‘ افراد خود مسلح تنظیموں میں شامل ہو گئے۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے، اور سیکیورٹی فورسز عوام کے تعاون سے بلوچستان کو امن و استحکام کی راہ پر گامزن رکھیں گی۔

حکومتی اور سیکیورٹی حکام نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنا خوارج کی بزدلانہ اور قابلِ مذمت حکمتِ عملی ہے

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پہلا آپریشن کوئٹہ کے نواحی علاقے غزہ بند، اغبرگ کے پہاڑی سلسلے میں کیا گیا۔ اس کارروائی میں فائرنگ کے شدید تبادلے کے بعد 10 دہشتگرد مارے گئے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق 3 ایف سی اہلکار بھی اس دھماکے میں شہید ہوئے۔ مجموعی طور پر شہداء کی تعداد 8 تک پہنچ گئی ہے۔

سیکیورٹی حکام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جائیں گی۔ سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے تاکہ حملے کے ذمہ داروں کو فوری انجام تک پہنچایا جاسکے۔

دوسری جانب کئی غیر مصدقہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ ہلاک ہونے والا بنگلہ دیشی، انصار فی الہند الشرقیہ سے منسلک ہوسکتا ہے۔

پولیس حکام نے بتایا کہ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے قریبی دیہات میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے۔ کرفیو کل دوپہر 2 بجے تک برقرار رہے گا۔