Category: سکیورٹی

تاریخی حقائق اور دستاویزی شواہد کالعدم تنظیموں کے جبری الحاق کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے یہ ثابت کرتے ہیں کہ بلوچستان کا پاکستان میں شامل ہونا عوام اور مقامی حکمرانوں کا اپنا فیصلہ تھا۔

بلوچستان کے ضلع خاران کی وادی سراوان میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 5 دہشت گردوں کو ہلاک کر کے ان کا ٹھکانہ کلیئر کروا لیا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امن پسند ملک اور ذمہ دار ایٹمی قوت ہے، تاہم ملک کی طرف بری نگاہ سے دیکھنے والے کی آنکھیں نکال دیں گے۔

وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور چینی ہم منصب وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں چین نے امریکہ ایران امن مذاکرات میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کی ہے۔

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد نے پاک کشمیر رشتے کو ناقابل تنسیخ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کی آڑ میں اداروں کے خلاف مہم چلائی گئی، غداری پر سخت سزا ہونی چاہیے۔

امریکی جریدے دی ڈپلومیٹ نے افغانستان میں دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کے آپریشن غضب للحق کی عسکری حکمتِ عملی کو سراہتے ہوئے اسے کامیابی قرار دیا ہے۔

کیپٹن رحمان گل کی ہلاکت بی ایل اے کے لئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک دہشت گردوں کو سرحد پار پناہ اور سہولت ملتی رہے گی، پاکستان میں دہشت گردی کے خطرات برقرار رہیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق سیکورٹی فورسز ملک میں امن اور سلامتی کے قیام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہی ہیں اور ایسے بزدلانہ حملے فوج کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔

ٹی ٹی پی کے اس بیان میں وزیراعظم کے اس موقف کو بھی چیلنج کیا گیا جس میں افغان سرزمین کو “ٹی ٹی پی یا پاکستان” میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے کا کہا گیا تھا۔

بلوچستان کانفرنس میں ریاست مخالف بیانے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا جو مُلکی سلامتی کے لیے خطرے کا باعث بن سکتی ہے

اسد قیصر نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر فوجی جوانوں اورعام شہریوں کی شہادتیں قابلِ تشویش ہیں

عمران خان کا کے پی میں فوجی کارروائی، ڈرون حملوں اور مہاجرین کی بے دخلی پر شدید ردِعمل، پی ٹی آئی کے اراکینِ پارلیمنٹ کو مزاحمت کی ہدایت

انٹیلیجنس رپورٹس کی بنیاد پر کاروائیاں کی گئیں اور لکی مروت اور بنوں میں ٹی ٹی پی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

قومی سطح پر شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے اور عوام نے ان کے اہل خانہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی اور اس کے نتیجے میں ایک بڑے نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سب سے نمایاں نام ٹی ٹی پی کی سیاسی کمیشن کے سربراہ مولوی فقیر باجوڑی کے بیٹے مولوی فرید منصور کا ہے،