یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان سرحد پار دہشت گردی اور ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن کا مرکز بن چکا ہے، جہاں داعش خراسان پورے یورپ کے لیے سنگین ترین خطرہ بن گئی ہے۔
باجوڑ کے علاقے لوئی سم میں خوارج کی جانب سے داغے گئے گولے کے مکان پر گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ میانوالی کی درہ تنگ چیک پوسٹ پر ڈرون کے ذریعے گرنیڈ حملے کی کوشش کو پولیس نے ناکام بنا دیا۔
کوئٹہ تفتان ہائی وے جیسی بین الاقوامی اور اسٹریٹجک شاہراہ پر دہشت گردوں کے مستقل یا عارضی کنٹرول کا بیانیہ سراسر جھوٹ اور گمراہ کن پروپیگنڈا ہے۔ یہ بزدل عناصر ریاست کے سامنے کھڑے ہونے کی کوئی طاقت نہیں رکھتے اور صرف ہٹ اینڈ رن کے بزدلانہ حملوں یا عارضی ناکہ بندی کی ناکام کوششوں کے ذریعے اپنی جھوٹی موجودگی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے شاہراہ پر مکمل طور پر متحرک ہیں اور تمام تر جائز ٹریفک، مسافروں اور تجارتی قافلوں کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ ریاستِ پاکستان کا موقف اس حوالے سے بالکل واضح ہے کہ ملکی انفراسٹرکچر یا عوامی زندگی کو مفلوج کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی،
امریکی اور نائجیرین افواج نے ایک انتہائی پیچیدہ اور مشترکہ فوجی آپریشن کے دوران عالمی دہشت گرد تنظیم 'داعش' کے دوسرے بڑے کمانڈر ابو بلال المنوکی کو ہلاک کر دیا ہے۔
فتنہ الخوارج کے نائب امیر اور ٹارگٹ کلر کی آڈیو لیک نے شیخ ادریس کے قتل کی سازش کو بے نقاب کر دیا، جس میں عالم دین کو ریاست کی حمایت پر نشانہ بنانے اور داعش کا نام بطور ڈھال استعمال کرنے کے حقائق سامنے آئے ہیں۔
فتنہ الخوارج ایک مجرمانہ ٹولہ ہے جو اسلام کا نام استعمال کر کے چوری، ڈاکہ زنی اور اغوا برائے تاوان جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہے، جس کا مقصد صرف مالی مفادات کا حصول ہے۔
سیکیورٹی فورسز کی مستعدی کے باعث اب تک 3 دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں، جبکہ علاقے کو مکمل طور پر سیل کر کے فرار ہونے والے دیگر شرپسندوں کی تلاش کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
فورسز کو علاقے میں خوارج کی موجودگی کی خفیہ اور معتبر اطلاع موصول ہوئی تھی، جس پر کارروائی کرتے ہوئے مشترکہ ٹیموں نے دہشت گردوں کے ٹھکانے کو گھیرے میں لے کر مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں 9 شرپسند مارے گئے۔